.

مہاجرین کو جنگ کے خاتمے پر گھر جانا ہوگا: جرمن چانسلر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے مہاجرین کو جرمنی میں پناہ دینے کی پالیسی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو منانے کی کوشش میں کہا ہے کہ شام اور عراق کے مہاجرین کو جنگ ختم ہونے کی صورت میں اپنے گھروں کو واپس جانا ہوگا۔

انجیلا میرکل مہاجرین کو آباد کرنے کی پالیسی پر تنہا دکھائی دیتی ہیں مگر انہوں نے کچھ قدامت پسندوں کی جانب سے مہاجرین کی آمد کو محدود کرنے یا جرمنی کی سرحدوں کو بند کرنے کے دبائو کے اگے نہیں جھکیں۔ پچھلے سال کے دوران 11 لاکھ مہاجرین کی ریکارڈ تعداد نے جرمنی کا رخ کیا۔

مگر جرمنی کے شہر کولون میں خواتین پر حملوں کے نتیجے میں جرمنی کی جرائم اور سیکیورٹی کے حالات پر گرفت کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

میرکل کا کہنا ہے کہ مہاجرین کو رہنے کی جگہ اور مدد کرنے کی کوششوں کے باوجود انہیں یہ بتانا ضروری ہے کہ انہیں صرف کچھ محدود مدت کے لئے رہنے کی جگہ دی گئی ہے۔

میرکل نے اپنی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین [سی ڈی یو] کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ"ہمیں ان افراد کو بتانا چاہئیے ہے کہ یہ ایک عارضی رہائش ہے اور ہمیں امید ہے کہ جب شام میں امن آجائے گا اور داعش کو عراق میں شکست ہوجائے گی تو یہ سب یہاں سے حاصل ہونے والے تمام علم کے ساتھ اپنے ممالک میں واپس چلے جائینگے۔"

ان کا کہنا تھا کہ 1990 کی دہائی میں سابقہ یوگوسلاویہ سے فرار ہو کر جرمنی آںے والے مہاجرین کا 70 فیصد اپنے ممالک میں واپس چلا گیا ہے۔

میرکل نے دوسرے یورپی ممالک کو مہاجرین قبول کرنے پر آمادہ کرنے، یورپ کی سرحدوں پر استقبالیہ سنٹرز کا قیام اور ترکی کو آمادہ کیا جائے کہ وہ مہاجرین کو یورپی یونین میں داخل ہونے سے روک دے۔ مگر ان تمام اقدامات کو کافی سستی کا سامنا ہے۔

انجیلا میرکل جرمنی شمالی افریقا سے مہاجروں کی آمد کو روکنے کے لئے مراکش، الجزائر اور تیونس کو محفوظ ممالک قرار دینا چاہتی ہیں جس کی بدولت ان ممالک کے شہریوں کو پناہ ملنے کے مواقع ختم ہوجائینگے۔