.

اقوام متحدہ شام کے حل پر عمل درامد سے قاصر، خفیہ دستاویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی جریدے فارن پالیسی کو ملنے والی ایک دستاویز نے انکشاف کیا ہے کہ اقوام متحدہ، جنیوا میں جاری امن مذاکرات کے نتیجے میں ممکنہ طور پر سامنے آنے والے کسی بھی امن معاہدے کی نگرانی یا اس پر عمل درامد کرانے پر قادر نہیں ہوگی۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ اور شام کے مسئلے سے متعلقہ ممالک اس بات کی انتہائی کوششیں کررہے ہیں کہ لڑائی میں مصروف تمام شامی فریقوں کو جنیوا میں تیسرے اجلاس میں بات چیت کے ذریعے کسی حل تک پہنچا دیں۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ عالمی برادری شام کے بحران سے نکلنے کے لیے اقوام متحدہ کے اختیارات پر انحصار کررہی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ شام میں درجنوں مسلح گروپ اور دہشت گرد تنظیموں کی وجہ سے فائر بندی کرانے میں بھی بے بس ہے۔

دستاویز نے اس جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ شام میں خانہ جنگی اور سیاسی پیش رفت اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ فائر بندی کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی فوج یا مبصرین پر اعتماد مناسب طریقہ نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ امن فوج کے حوالے سے زمینی صورت حال کا خطرناک ہونا ہے۔

مزید برآں، بڑی طاقتیں اور بحران سے متعلق ممالک اس مشن کو مؤثر بنانے کے لیے کسی سنجیدہ خواہش کا اظہار نہیں کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ان شدت پسند اور انتہا پسند عناصر کی جانب سے بھی خطرہ ہے جن کو سیاسی بات چیت سے دور رکھا جائے گا۔