.

بیلجیئم، فرانس اجلاس، دہشت گردی مخالف اقدامات پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیئم اور فرانس کے وزرائے اعظم آج سوموار کے روز برسلز میں دہشت گردی کے خلاف دوطرفہ تعاون کو مربوط بنانے کے لیے اقدامات پر غور کررہے ہیں۔

بیلجئین وزیراعظم چارلس مشعل اور فرانسیسی وزیراعظم مینول والز کے ساتھ اس اجلاس میں دونوں ملکوں کے داخلہ امور اور انصاف کے وزراء بھی شریک ہیں۔وہ یورپی یونین کے تمام رکن ممالک میں دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ فرانس پڑوسی ملک بیلجیئم سے پیرس میں نومبر میں حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو نہ روکنے پر نالاں ہے اور اس وجہ سے دونوں ملکوں میں سرد مہری بھی پائی جاتی ہے۔ایک فرانسیسی عہدے دار کے مطابق اس سربراہ اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور لوگوں کو سخت گیر بنانے کے لیے انتہا پسندوں کی کوششوں کے توڑ کے لیے اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک بالخصوص انٹیلی جنس کے تبادلے کو بہتر بنانے کا جائزہ لیں گے۔بیلجیئم نے فرانس کی اپنی پولیس اور انٹیلی جنس سروسز پر تنقید کو مسترد کردیا ہے اور وزیراعظم مشعل کا کہنا ہے کہ ''بیلجیئم لاقانونیت کا شکار علاقہ نہیں ہے''۔

فرانس کا شکوہ ہے کہ بیلجیئن پولیس 13 نومبر کو پیرس میں حملہ کرنے والے اپنے شہری دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام رہی تھی۔فرانسیسی دارالحکومت میں چھے مختلف مقامات پر حملوں میں ایک سو تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ان حملہ آوروں میں سے بعض برسلز کے علاقے مولن بیک سے تعلق رکھتے تھے۔سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے پیرس حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی اور اس نے کہا تھا کہ نو حملہ آوروں میں سے چار بیلجیئم سے تعلق رکھتے تھے۔

پیرس حملوں کے سرغنہ عبدالحمید اباعود بھی بیلجیئن شہری تھا۔وہ اس واقعے کے بعد فرانسیسی پولیس کی پیرس کے نواحی علاقے سینٹ ڈینس میں ایک چھاپا مار کارروائی میں مارا گیا تھا۔تین حملہ آور فرانسیسی اور دو عراقی تھے۔انھوں نے خود کو دھماکوں سے اڑالیا تھا۔

نومبر کے بعد سے بیلجیئم میں گیارہ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور ان پر پیرس حملوں میں معاونت کے الزام میں فرد جرم عاید کی جاچکی ہے۔تاہم مرکزی مشتبہ کردار صلاح عبدالسلام اور اس کا ایک دوست محمد عبرینی ابھی تک مفرور ہیں۔ان دونوں کا تعلق مولن بیک سے تھا۔

بیلجیئم میں پیدا ہونے والے 26 سالہ صلاح عبدالسلام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسی نے مبیّنہ طور پر پیرس حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔کچھ عرصہ قبل اس کے بارے میں یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ اس نے ہنگری کا سفر کیا تھا اور وہاں غیر رجسٹر تارکین وطن کی ایک ٹیم بھرتی کی تھی۔