.

سعودی عرب اور ترکی: شامی اپوزیشن کی حمایت جاری رکھنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور ترکی نے شامی حزب اختلاف کی جنیوا مذاکرات میں شریک ہونے یا وہاں سے اٹھ آنے کی صورت میں حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے الریاض میں اتوار کے روز اپنے ترک ہم منصب مولود تشاوس اوغلو کے ساتھ مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ ''شامی حزب اختلاف جنیوا میں انتقالِ اقتدار ،نئے انتخابات اور ایک نئے شام پر مذاکرات کے لیے گئی ہے''۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ''شامی حزب اختلاف شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں کسی بھی وقت جنیوا بات چیت سے اٹھ آنے کو آزاد ہے''۔ان کا کہنا تھا کہ ہم حزب اختلاف کے شام کے محصور علاقوں میں جنگ بندی اور انسانی امداد بھیجنے سے متعلق مطالبے کی حمایت کرتے ہیں۔

اس موقع پر سعودی وزیرخارجہ نے ان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم اس حزب اختلاف کے حامی ہیں جو ہمارے شامی بھائیوں کی براہ راست حمایت پرمبنی ہے اور اسی کی بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت کے لیے حمایت کرتے ہیں''۔

واضح رہے کہ ترکی اور سعودی عرب شامی حزب اختلاف کے زبردست حامی و مو٘ید ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں روس اور ایران شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کررہے ہیں۔اس بنا پر ان کے درمیان شدید اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔

نیوز کانفرنس میں عادل الجبیر نے یہ بھی واضح کیا کہ سعودی عرب ترکی کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے۔ان کے اس بیان سے قبل ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ہفتے کے روز روس کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس کے لڑاکا طیاروں نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی جاری رکھی تو وہ تمام نتائج کا خود ذمے دار ہوگا۔

روس کے ایک لڑاکا طیارے نے جمعہ کے روز ایک مرتبہ پھر شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ یادرہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان نومبر 2015ء میں شام کے ساتھ سرحدی علاقے میں روس کا ایک لڑاکا طیارہ فضائی حدود کی خلاف ورزی پر مار گرائے جانے کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔