.

کابل: پولیس دفتر کے باہر خودکش بم دھماکا، 20 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان دارالحکومت کابل میں طالبان کے ایک بمبار نے پولیس کے ایک دفتر کے باہر خود کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس کے نتیجے میں بیس افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوگئے ہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے مطابق بم دھماکے کے وقت بہت سے افراد پولیس دفتر میں داخل ہونے کے لیے قطار میں کھڑے تھے اور حملہ آور اندر جانے والے افراد کے میں شامل ہوگیا تھا اور اس نے خودکش دھماکا کردیا ہے۔

افغانستان میں نیٹو کے فوجی مشن نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس میں بیس پولیس افسر مارے گئے اور پچیس زخمی ہوئے ہیں جبکہ سات افغان شہری بھی واقعے میں زخمی ہوئے ہیں۔

نیٹو مشن کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف برائے مواصلات بریگیڈئیر جنرل ولسن شوفنر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر شہری آبادی والے علاقے کو نشانہ بنایا ہے اور انھیں بے گناہ شہریوں کی زندگیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے''۔

طالبان نے ایک بیان میں اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ دھماکے میں چالیس پولیس افسر ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔طالبان کے بمبار نے کابل کے گنجان آباد مغربی علاقے دیہ مزنگ میں یہ حملہ کیا ہے۔اس کے نزدیک کابل کا ٹریفک ڈائریکٹوریٹ واقع ہے جہاں لائسنس یا دوسرے کاغذات بنوانے والوں کا رش لگا رہتا ہے۔

اس سال کے آغاز کے بعد طالبان جنگجوؤں کا مغرب کی حمایت یافتہ افغان حکومت کے تحت سکیورٹی فورسز پر یہ سب سے تباہ کن بم حملہ ہے۔انھوں نے حالیہ مہینوں کے دوران کابل میں متعدد تباہ کن بم حملے کیے ہیں۔اگست میں طالبان کے ایک خودکش بمبار نے پولیس اکیڈیمی کے باہر قطار میں کھڑے لوگوں کو اسی انداز میں نشانہ بنایا تھا۔

افغانستان میں یہ خودکش بم دھماکا ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغان حکومت اور پاکستان طالبان مزاحمت کاروں کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے گذشتہ ماہ کابل کا دورہ کیا تھا اور افغان قیادت کے ساتھ طالبان مزاحمت کاروں سے امن مذاکرات کی بحالی کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا تھا۔

واضح رہے کہ جولائی 2015ء میں پاکستان کی میزبانی میں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے مگر اس دوران ہی طالبان کے امیر ملّا محمد عمر کے انتقال کی خبر منظرعام پر آنے کے بعد یہ مذاکرات منقطع ہوگئے تھے۔