.

یمن: سعودی اتحاد شہریوں پر حملوں کے الزامات کی تحقیقات کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#سعودی_عرب کی سربراہی میں #یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لئے سرگرم فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ انہوں نے تنازعے میں شہریوں کے خلاف ممکنہ جرائم کے الزامات کی تحقیقات کے لئے ایک غیر جانبدار ٹیم بنا دی ہے۔

اتحاد کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے انسانی اور ہتھیاروں سے متعلق بین الاقوامی شہرت رکھے والے ماہرین پر مشتمل ایک غیر جانبدار ٹیم تشکیل دی ہے جو کہ ان واقعات کی تحقیقات کرے گی۔

اتحاد کا کہنا تھا کہ "اس اقدام کا مقصد ہے کہ تمام واقعات کی جامع اور واضح رپورٹ تیار کی جائے، ان سے سبق حاصل کیا جائے اور شہریوں کے جانوں کے تحفظ کے لئے سفارشات اور مزید اقدامات اٹھائے جائیں۔"

سعودی مشن کے آفیشل ٹویٹر پیج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "اتحاد یمن میں شہریوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے۔"

عالمی خبررساں ایجنسی "اے ایف پی" کو حاصل ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی اتحاد کی جانب سے 119 ایسی کارروائیاں کی گئی ہیں جن میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں ان کارروائیوں کے حوالے سے بین الاقوامی تفتیش کا مطالبہ کیا تھا۔

سعودی اتحاد کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل احمد عسیری کا کہنا تھا "ہم اقوام متحدہ اور اس کی ذیلی تنظیموں کے ساتھ سنجیدگی سے تعاون کرر ہے ہیں۔ ہم اپنے اتحادیوں کو مسلسل ٹریننگ دے رہے ہیں تاکہ وہ قوانین کے عین مطابق کارروائیاں کریں۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ یمن کی صعدہ گورنری کے علاقے ھایدن میں سعودی اتحاد کی بمباری سے این جی او ڈاکٹرز ود آئوٹ بارڈز کے ہسپتال کو نقصان پہنچنے کے بعد ایک ہاٹ لائن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تاکہ این جی او سے مشاورت کر کے ان کی املاک کو نشانہ بننے سے بچایا جاسکے۔