.

افغانستان : امریکی حملے میں داعش کا ریڈیو اسٹیشن تباہ

مشرقی صوبے ننگرہار میں فضائی بمباری میں داعش کے 21 حامی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دور دراز مشرقی علاقے میں امریکی فوج نے فضائی حملے میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کا ایک ریڈیو اسٹیشن تباہ کردیا ہے۔بمباری میں داعش کے حامی اکیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

امریکا کے ایک فوجی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ داعش کے ریڈیو ''صوتِ خلافت'' پر دو فضائی حملے کیے گئے ہیں۔افغانستان میں امریکا کے زیر قیادت نیٹو مشن کے ترجمان کرنل مائیک لہورن کا کہنا ہے کہ مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع اچین میں سوموار کی شب دہشت گردی مخالف دو فضائی حملے کیے گئے تھے۔

صوبہ ننگرہار کے گورنر کے ترجمان عطاء اللہ خوجیانی نے بتایا ہے کہ ان فضائی حملوں میں داعش کے اکیس حامی مارے گئے ہیں۔ان میں پانچ افراد تباہ شدہ ریڈیو اسٹیش میں کام کرتے تھے۔داعش نے مبینہ طور پر یہ ریڈیو اسٹیشن 2015ء کے آخر میں قائم کیا تھا اور اس کے ذریعے وہ اپنے پروپیگنڈے کی تشہیر کرتے تھے۔

داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ سال طالبان کے ساتھ لڑائی کے بعد افغانستان کے مشرقی علاقوں میں قدم جمائے تھے اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے بعض کمانڈروں نے بھی داعش کے خلیفہ ابو بکر البغدادی کی بیعت کر لی تھی۔ان کے علاوہ طالبان سے نالاں جنگجو دھڑوں نے اب داعش میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

داعش اور طالبان اگرچہ اپنی سخت گیری اور شرعی سزاؤں کے نفاذ میں مماثلت رکھتے ہیں لیکن ان کے درمیان قیادت اور حکمت عملی پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔طالبان نے صرف افغانستان پر اپنی توجہ مرکوز کررکھی ہے جبکہ داعش دنیا بھر میں اپنی خلافت کو پھیلانا چاہتے ہیں اور عراق اور شام سے باہر اب دوسرے جنگ زدہ ممالک کا بھی رُخ کررہے ہیں۔نیز مغربی ممالک میں دہشت گردی کی کارروائیاں کررہے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے حال ہی میں افغانستان میں داعش سے وابستہ گروپ کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ جنگ زدہ افغانستان میں ریڈیو ایک طاقتور میڈیم ہے جبکہ وہاں بیشتر لوگوں کے پاس ٹیلی ویژن سیٹ نہیں ہیں اور صرف دس فی صد آبادی کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے مگر ریڈیو تک ہرکسی کی رسائی ہے اور اس وقت ملک بھر میں 175 ریڈیو اسٹیشن کام کررہے ہیں۔