.

ایران: رفسنجانی نے سول نافرمانی سے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#ایران کے سابق صدر علی اکبر #ہاشمی_رفسنجانی نے حکومت کو ملک میں سول نافرمانی سے خبردار کرتے ہوئے اسے "آفت" قرار دیا ہے۔ ان کا یہ بیان رواں ماہ کے آخر میں مقررہ انتخابات کے انتظامات پر ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔

رفسنجانی 1979 میں اسلامی جمہوریہ ایران کے پہلے رہبر خمینی کی پیرس سے واپسی اور اقتدار سنبھالنے کے حوالے سے #تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر منعقد تقریب سے گفتگو کررہے تھے۔ اس دوران انہوں نے "مجلس خبرگان رہبری" کے انتخابات کے لیے #خمینی کے پوتے حسن خمینی کی اہلیت نامنظور کرنے پر "شوری نگہبان" میں شامل مذہبی شخصیات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ لوگ 12 برسوں سے ایران میں گروپ بندی پھیلا رہے ہیں جب کہ ان میں سے کچھ لوگوں کا تو انقلاب کوئی کردار بھی نہیں رہا"۔

رفسنجانی نے موجودہ مرشد اعلیٰ علی #خامنہ_ای کی مقرر کردہ شوریٰ نگہبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ اس شخص کی اہلیت نامنظور کررہے ہیں جو اپنے دادا امام خمینی کی طرح ہے، یہ تو بتاؤ کہ تم لوگوں نے کہاں سے اہلیت حاصل کی ہے؟"۔

ایرانی امور کے مبصرین کے مطابق رفسنجانی کا بیان درحقیقت مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کے لیے ہے، جو شوری نگہبان کے ارکان کی اہلیت کی منظوری دیتے ہیں اور انہوں نے حسن خمینی کی تائید کے حق میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ رفسنجانی کا کہنا تھا کہ "آپ لوگوں کو عوام پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ جس کو چاہیں منتخب کریں، میرے پاس کوئی اختیار نہیں کہ میں امیدواروں کی نامنظوری پر نظرثانی کے حوالے سے دباؤ ڈال سکوں"۔

شوریٰ نگہبان فیصلہ کرنے والی اعلیٰ ترین مجلس ہے

ایران کے پیچیدہ انتخابی عمل کو جاننے کے لیے، جو بہت سے ماہرین کے نزدیک ولی فقیہ کے مطلق اختیارات کے مفاد میں جمہوریت گرد لپٹا ہوا ہے، پہلے شوریٰ نگہبان کے اختیارات کو جاننا ہوگا جو ایران میں فیصلہ کرنے والی اعلیٰ ترین مجلس ہے۔ یہ ایرانی پارلیمنٹ کے کام کی نگرانی کرتی ہے اور پارلیمنٹ میں بنائے گئے تمام قوانین اور بلوں کی شوریٰ نگہبان سے منظوری لازمی ہے۔

اس کے اختیارات میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے علاوہ مجلس خبرگان رہبری کے انتخابات کے امیدواروں کی اہلیت کی منظوری شامل ہے۔ مجلس خبرگان مرشد اعلیٰ کا انتخاب کرکے اس کے کام کی نگرانی کرتی ہے، جب کہ 12 ارکان پر مشتمل اس مجلس کے 6 فقہاء ارکان کا تقرر خود مرشد اعلیٰ کرتا ہے۔

مرشد اعلیٰ کا مقرر کردہ چیف جسٹس (تجربہ کار قانونی ماہرین میں سے) بقیہ 6 ارکان کو نامزد کرتا ہے۔ شوریٰ نگہبان کی منظوری حاصل کرنے والے ان ارکان کے لیے پارلیمنٹ میں رائے شماری کرائی جاتی ہے۔

یہ پیچیدہ طریقہ کار صدارتی اور پارلیمانی یہاں تک کہ مجلس خبرگان رہبری جو مرشد کے چناؤ کے لیے مخصوص ہے، ان سب کے انتخابی عمل پر مرشد اعلیٰ کے براہ راست یا بالواسطہ کنٹرول کی تصدیق کرتا ہے۔

آئندہ آفت... الله تم لوگوں کو معافی دے

علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے اصلاح اور اعتدال پسندوں کے قریبی حسن خمینی کو مجلس خبرگان رہبری کی رکنیت کا امیدوار بننے پر ان کو بھرپور طریقے سے سراہا تھا، تاہم شوریٰ نگہبان کی جانب سے ان کی اہلیت نامنظور ہوگئی۔ اس پر شوریٰ نگہبان کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے رفسنجانی نے کہا کہ " اگر امام (خمینی)، ان کی نشاة ثانیہ اور عوام کی چاہت نہیں تو پھر ان لوگوں میں سے بھی کسی کا وجود نہیں رہے گا جنہوں نے امام کو یہ برا تحفہ پیش کیا ہے... اللہ تم لوگوں کو معافی دے"۔

رفسنجانی نے 2009 کے صدارتی انتخابات سے پہلے کی طرح ایک مرتبہ پھر اقتدار میں شدت پسندوں کو نتائج پر عوامی احتجاج سے خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "عوام کو انتخاب کرنے دیں، رائے عامہ میں کم سے کم غلطیاں ہوتی ہیں، لیکن اگر لوگوں کا انتخاب مسلط کیا گیا تو پھر آفت آن کھڑی ہوگی"۔ ان کا اشارہ سول نافرمانی یا ممکنہ عوامی انقلاب کی جانب تھا۔

سابق صدر نے شاہ ایران کے خلاف انقلاب میں شریک نہ ہونے والوں کو جو آج مرشد اعلیٰ کی حمایت سے ملک میں اعلی قیادتی منصبوں پر فائز ہیں، کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی گروپ بندیوں کے نتیجے میں اختلافات بھڑکے، ہم نے انتہائی مشکل وقت کا سامنا کیا، ہم پر ایسے وقت میں پابندیاں عائد کی گئیں جب تیل کی قیمتیں اعلی ترین سطح پر تھیں، اس موقع پر بھی زمین سے تیل نکالا گیا مگر ہم نہیں جانتے وہ کہاں گیا"۔