.

فرانس: لیبیا میں داعش مخالف فضائی حملوں کا امکان مسترد

لیبیا میں فوجی مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: فرانسیسی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابیئس نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا ہے کہ ان کا ملک لیبیا میں سخت گیر جنگجو گروپ دولتِ اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے خلاف فوجی کارروائی کرنے جارہا ہے۔

وہ اطالوی دارالحکومت روم میں منگل کے روز داعش مخالف جنگ میں شریک ممالک کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے واضح کیا کہ لیبیا میں فوجی مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگرچہ اس فوجی کارروائی کے لیے دباؤ ہے مگر (فرانسیسی) حکومت کا یہ مؤقف نہیں ہے۔

قبل ازیں فرانسیسی صدر فرانسو اولاند بھی حال ہی میں ایک انٹرویو میں یہ کَہ چکے ہیں ان کا ملک لیبیا میں یک طرفہ طور پر مداخلت نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم جنوب میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے کام کررہے ہیں لیکن فرانس لیبیا میں مداخلت نہیں کرے گا کیونکہ یہ اب عالمی برادری پر منحصر ہے کہ وہ اپنی ذمے داریاں پوری کرے''۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کی صورت میں کیا فرانس لیبیا میں کوئی کارروائی کرے گا تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا کہ ''یہ مینڈیٹ واضح ہونا چاہیے،واضح تنظیم اور سیاسی شرائط ہونی چاہییں''۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''ابھی ہم اس راستے پر چلنے والے نہیں ہیں''۔

واضح رہے کہ فرانس نے لیبیا کے مطلق العنان صدر معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی فوجی مہم کی قیادت کی تھی لیکن 2011ء میں قذافی کی اقتدار سے رخصتی اور اندوہناک موت کے بعد سے لیبیا بدترین خانہ جنگی کا شکار ہے۔اب بیک وقت دو متوازی حکومتیں اور پارلیمان کام کررہی ہیں اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں سمجھوتا طے پانے کے باوجود قومی اتحاد کی حکومت قائم نہیں ہوسکی ہے۔

اس وقت لیبیا میں متحارب ملیشیائیں ایک دوسرے کے علاقوں اور شہروں پر قبضے کے لیے باہم محاذ آراء ہیں۔اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر داعش نے بھی لیبیا میں اپنے قدم جمالیے ہیں۔اس کے جنگجوؤں نے مقتول قذافی کے آبائی شہر سرت پر گذشتہ سال سے قبضہ کررکھا ہے اور وہ اب دوسرے شہروں اور قصبوں کی جانب پیش قدمی کی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔