.

نیویارک سے دبئی صرف 22 منٹ میں، یقین کرسکتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگر آپ کچھ عرصہ قبل شہرت پانے والی مقناطیسی ٹیوب ٹکنالوجی "ہائپرلوپ" پر یقین نہیں رکھتے ہیں، جس کے ذریعے نیویارک سے بیجنگ کا فاصلہ صرف دو گھنٹوں میں طے کیا جاسکتا ہے۔ تو پھر آپ کو یہ یقین کرنا بھی آسان نہیں ہوگا کہ نیویارک سے دبئی تک (6836 میل) کا سفر صرف 22 منٹوں میں مکمل کیا جاسکے گا۔

کینیڈا سے تعلق رکھنے والے چارلس بومبارڈیئر نے جو مستقبل کے ذرائع آمدورفت کی ڈیزائننگ کے حوالے سے معروف ہیں، اپنی ویب سائٹ "imaginactive" پر ایک گھنٹے میں 20 ہزار کلومیٹر کی خیالی رفتار سے چلنے والے طیارے کا تصوراتی خاکہ پیش کیا ہے۔

بومبارڈیئر کے مطابق یہ طیارہ، جو ابھی تک مستقبل کا خیال ہے اور اسے حقیقت کا روپ دھارنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، درحقیقت بحرانوں کے زمانے میں نمایاں شخصیات، سربراہان اور فوجی سازوسامان کو ریکارڈ وقت میں دنیا کے کسی بھی ملک پہنچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اس طیارے میں زیادہ سے زیادہ 10 افراد کے سوار ہونے کی گنجائش ہوگی اور یہ مشہور زمانہ "کانکرڈ" طیارے کی رفتار سے بھی 12 گنا تیز رفتاری سے سفر کرے گا۔ گویا کہ یہ میک24 کی رفتار سے سفر کرے گا۔ "میک" دراصل متعلقہ رفتار کی پیمائش کا عدد ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ آواز کی رفتار سے چلنے والے اجسام کو میک2 کا نام دیا گیا ہے۔

"فوربز" ویب سائٹ کے مطابق اس نئی ٹکنالوجی کے ذریعے نیویارک سے لندن تک (3459 میل) کا سفر صرف 11 منٹ، نیویارک سے پیرس تک (3625 میل) صرف 12 منٹ اور نیویارک سے سڈنی تک (9929 میل) 32 منٹ پر محیط ہوگا۔

راہ میں حائل چیلنجز

اس طیارے کے متعلق انٹرنیٹ پر بہت کچھ لکھا جارہا ہے۔ طیارے کے پروں پر نصب راکٹ بوسٹر اسے 40 ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچا دیں گے۔ اس کے بعد یہ بوسٹر طیارے سے علاحدہ ہو کر اڑان کے مقام پر اپنے رن وے پر واپس آجائیں گے، جب کہ طیارہ جیٹ ایندھن کے ذریعے اپنے کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت کام کرے گا۔

اپنی تیز ترین "Antipode" نامی رفتار کی وجہ سے طیارے کو انتہائی بلند درجہ حرارت کا سامنا ہوگا۔ اس کے حل کے لیے طیارے کے آگے ایک طویل دہانہ رکھا جائے گا جس سے گرم ہوا باہر نکل سکے گی اور اس طرح آواز کی رفتار سے زیادہ تیزی کے سبب پیدا ہونے والے شور کو دبایا جاسکے گا۔

ان دنوں زیرگردش انقلابی ٹیکنالوجیز میں "ہائیپر لوپ" بھی شامل ہے جس کی رفتار اندرون ملک 1220 کلومیٹر فی گھنٹہ تک جب کہ بین الممالک آمد ورفت کے دوران 6500 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوسکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکا میں پیش رفت جاری ہے۔

دوسری جانب ماہر طبیعات اور انجینئر پیٹر ڈیامینڈس نے توقع ظاہر کی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے 2020ء میں متحدہ عرب امارات کے لوگ ابوظہبی سے دبئی کا سفر 15 منٹ سے بھی کم دورانیے میں پورا کرسکیں گے۔

طے شدہ پروگرام کے تحت "ہائیپر لوپ" ٹیکنالوجی کے ذریعے تیز ترین رفتار کے تجربات کا آغاز رواں سال 2016 میں کیلیفورنیا میں ہوجائے گا۔