.

یمنی صدر: صنعا کی آزادی تک حوثی مخالف فوجی آپریشن

شہر کے مشرق مِیں واقع علاقے میں دو روز سے جاری لڑائی میں 30 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے کہا ہے کہ دارالحکومت صنعا کو آزاد کرانے تک حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق یمنی صدر منگل کے روز صنعا کے گورنر سے ٹیلی فون پر گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے صنعا پر دوبارہ کنٹرول کے لیے آپریشن کو ایک فیصلہ کن جنگ قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ''حکومت نواز فورسز نے صنعا کے نزدیک واقع علاقوں میں متعدد کامیابیاں حاصل کی ہیں اور فوجی آپریشن اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک یمنی دارالحکومت کو باغی ملیشیا سے آزاد نہیں کرا لیا جاتا''۔

درایں اثناء یمنی سکیورٹی فورسز کے عہدے داروں اور قبائلی سرداروں نے بتایا ہے کہ صنعا کے مشرقی علاقے میں گذشتہ دوروز سے شدید لڑائی جاری ہے اور اس میں تیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ شہر سے مشرق میں 65 کلومیٹر دور واقع علاقے میں سرکاری فورسز اور حوثیوں کے درمیان جاری جھڑپوں میں طرفین کے 25 جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔لڑائی کی زد میں آکر پانچ شہری بھی مارے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ یمنی دارالحکومت پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجیوں نے ستمبر 2014ء سے قبضہ کررکھا ہے۔انھوں نے گذشتہ سال کے اوائل میں جنوبی شہروں کی جانب بھی یلغار کی تھی اور بہت سے شہروں پر قبضہ کرلیا تھا۔

ان کی اس فاتحانہ یلغار کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے مارچ 2015ء میں یمنی حکومت کی اپیل پر حوثیوں اور ان کی اتحادی ملیشیاؤں کے خلاف فضائی حملے شروع کردیے تھے۔گذشتہ مہینوں کے دوران اس فضائی بمباری کی مدد سے صدر منصور ہادی کی وفادار فورسز نے عدن اور دوسرے جنوبی شہروں سے حوثی باغیوں کو نکال باہر کیا ہے اور اب وہ ان کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے صنعا کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔

درایں اثناء جنوبی شہر عدن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز اور القاعدہ کے جنگجوؤں کے درمیان منگل کی شب لڑائی چھڑ گئی ہے۔یمنی فورسز نے سکیورٹی پلان کے تحت شہر کی جانب آنے والی شاہراہوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بلاک کردیا ہے۔اس دوران القاعدہ کے جنگجوؤں نے ممکنہ طور پر سکیورٹی فورسز پر ہلہ بولنے کی کوشش کی جس کے بعد ان کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔