.

روس بشار کی علوی ریاست کے لیے کوشاں ہے: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ کا کہنا ہے کہ روس بشار الاسد کے واسطے ایک (علاحدہ) علوی ریاست کے قیام کے لیے شام کے امن کے عمل (جنیوا میں جاری حالیہ مذاکرات) کو استعمال کر سکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ شام میں شہریوں کو بمباری کا نشانہ بنا کر روس بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اس سے قبل روس اور برطانیہ کے درمیان اس وقت شدید نکتہ چینی کا تبادلہ ہوا جب برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے ایک غیرملکی نیوز ایجنسی سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ روسی صدر ولادی مر پوتن داعش کے دشمنوں پر بمباری کے ذریعے شام میں خانہ جنگی کے شعلے بھڑکا رہے ہیں۔

ہیمنڈ نے روس کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ وہ "غلط اور خطرناک معلومات" پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس امن کے عمل کو سپورٹ کرنے کے لیے ایک حد تک کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم وہ بشار الاسد کے مخالفین کو بمباری کا نشانہ بنا رہا ہے جن کے حوالے سے مغربی دنیا پر امید ہے کہ وہ بشار کے رخصت ہو جانے کے بعد ایک نیا شام بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہیمنڈ کا کہنا تھا کہ "کیا روس حقیقت میں امن کے عمل میں مخلص ہے یا پھر وہ امن کے عمل کو ایسے پتوں کے طور پر استعمال کر رہا ہے جن کے پیچھے بشار الاسد کو فوجی نصرت فراہم کرنے کی کوشش چھپی ہوئی ہے تاکہ شام کے شمال مغرب میں ایک علوی ریاست کا قیام عمل میں آ سکے؟"۔

بشار الاسد کا تعلق علوی شیعہ فرقے سے ہے جو شام میں اقلیت کی صورت میں ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ آیا روس شام میں جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے، ہیمنڈ کا جواب تھا کہ "بظاہر تو نظر آ رہا ہے اور آپ لوگوں پر اس معاملے کی باریک بینی سے تحقیق لازم ہے۔ شہری علاقوں پر بنا کسی امتیاز کے مسلسل بمباری کی جا رہی ہے۔ یہ چیز ظاہری طور پر بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے"۔

اس سے قبل برطانوی وزیر خارجہ نے پیر کے روز اردن میں الزعتری پناہ گزین کیمپ کا دورہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ "روس نے بشار الاسد کی مردہ حکومت میں جان ڈال دی، اس لیے وہ اس تنازع کی مدت طویل ہونے کے ذمہ دار ہیں، مجھے اس بات پر سخت افسوس ہے کیوں کہ بحران کے حل کے لیے ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں روس کی جانب سے اس کو سبوتاژ کر دیا جاتا ہے"۔

دوسری جانب نیوز ایجنسی انٹرفیکس نے منگل کے روز بتایا کہ روسی نائب وزیر خارجہ جینادی جیٹلوف کا کہنا ہے ماسکو حکومت شام میں جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے، تاہم مذاکرات میں کردوں کی شرکت کے بغیر کسی امن معاہدے تک پہنچنا مشکل ہے۔