.

لیبیا: عالمی معاہدے پر دستخط کیوں؟ ارکان پارلیمان برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں قائم اسلام پسند اتحاد کی پارلیمنٹ نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے قومی حکومت کے معاہدے پر دستخط کرنے والے 10 ارکان پارلیمان کو نکال دیا ہے۔

طرابلس میں قائم جنرل نیشنل کانگرس کے فرسٹ ڈپٹی سپیکر عواد محمد عبدالصادق نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ کانگرس نے مراکش میں ہونے والے معاہدے پر دستخط کرنے والے اپنے ارکان کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان ارکان پارلیمان کے پاس یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ اس معاہدے کی توثیق کرسکیں اور انہیں آئین اور چارٹر کی تعزیم کرنے کے عہد کی خلاف ورزی کرنے پر کانگرس سے نکال دیا گیا ہے۔"

ترجمان کے مطابق اس فیصلے سے کانگرس کے نائب صدر صالح المخزوم سمیت 10 دیگر ارکان پارلیمان کو عہدوں سے برخاست کردیا گیا ہے۔

لیبیا میں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں جن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت ملک کے مشرقی حصے اور ملیشیائوں کے اتحاد پر مشتمل حکومت طرابلس میں قائم ہے۔

ماہ دسمبر میں ہونے والے اس معاہدے پر دونوں اطراف سے تعلق رکھنے والے چند قانون سازوں نے دستخط کئے تھے مگر ان کی حکومتوں نے بین الاقوامی دبائو کے باوجود اس معاہدے کی مکمل طور پر مخالف کردی تھی۔

ایک متحدہ حکومت کو جنوری میں قیام میں لایا گیا تھا جس کی سربراہی لیبیا کے تاجر فائز السراج اور 32 رکنی کابینہ کررہی تھی مگر اسے بین الاقوامی طور پر تسلیم کردہ پارلیمان نے مسترد کردیا تھا۔