.

جنیوا : شامی امن مذاکرات 25 فروری تک روک دینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن دی مستورا کا کہنا ہے کہ جنیوا بات چیت کو عارضی طور پر 25 فروری تک کے لیے معطل کردیا گیا ہے۔

مذاکرات سے متعلق شامی اپوزیشن کی اعلیٰ کمیٹی سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ " میں نے جنیوا بات چیت کے ساتھ ایک ہی وقت میں عارضی فائر بندی کا مطالبہ کیا تھا"۔ انہوں نے واضح کیا کہ شامی حکومت کے وفد نے مذاکرات کو زمینی اقدامات کے ساتھ جوڑنے کو مسترد کردیا۔

دی مستورا کا یہ بھی کہنا تھا کہ " تمام فریقوں کی طرف سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، ہم ابھی تک مذاکرات کی خاطر مذاکرات کرنے پر تیار نہیں ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ شامی مذاکرات کو سپورٹ کرنے والے ممالک کو فوری اجلاس کی دعوت دیں گے تاکہ معاملات کو حل کیا جاسکے۔ دی مستورا نے امید ظاہر کی کہ شامی عوام کی مشکلات میں کمی لانے کے سلسلے میں کامیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔

اس سے قبل منگل کے روز ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے کہا تھا کہ جنیوا مذاکرات شام کے لیے آخری امید ہیں۔ انہوں نے یہ بھی باور کرایا کہ بات چیت کے مکمل طور پر ناکام ہوجانے کا "ہمیشہ امکان" ہوتا ہے، تاہم ..."ہم پر لازم ہے کہ اس کی عدم ناکامی کو یقینی بنانے کی کوشش کریں"۔

اس سوال کے جواب میں آیا کہ جنیوا بات چیت بدترین ناکامی سے دوچار ہوسکتی ہے... دی مستورا کا کہنا تھا کہ "اس کا امکان ہمیشہ رہتا ہے، خاص طور پر پانچ سال کی ہولناک جنگ کے بعد جہاں ہر فریق دوسرے کے لیے ناپسندیدہ ہے اور اعتماد مکمل طور پر غائب ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنیوا میں دو کانفرنسوں میں ہماری کوششوں کے بعد اگر اس مرتبہ بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو پھر شام کے حوالے سے کوئی دوسری امید ہر گز نہیں ہوگی"۔