.

یورپی یونین: ترکی کو تین ارب یورو دینے کی منظوری

ترکی مہاجرین کو یورپ جانے سے روکنے کے لیے اقدامات کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کے رکن ممالک نے مہاجرین اور تارکین وطن کے بحران سے نمٹنے کے لیے ترکی کو تین ارب یورو (3.32 ارب ڈالرز) دینے کی منظوری دے دی ہے۔ترکی اس رقم سے مہاجرین کا معیار زندگی بہتر بنائے گی،انھیں تعلیم ،صحت اور روزگار کی بہتر سہولتیں مہیا کرے گا اور انھیں یورپ کا رُخ کرنے سے روکے گا۔

یورپی یونین نے ہر ہفتے ہزاروں تارکین وطن اور جنگ زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی آمد کو روکنے کے لیے ترکی کے ساتھ نومبر میں سمجھوتا کیا تھا۔برسلز میں یورپی یونین کے رکن تمام اٹھائیس ممالک نے بدھ کو اپنے اجلاس میں اس سمجھوتے اور ترکی کو مذکورہ رقم دینے کی منظوری دی ہے۔اٹلی نے اس پر خود کو درپیش معاشی مسائل کے پیش نظر اعتراض کیا تھا لیکن بعد میں اس نے اپنا یہ اعتراض واپس لے لیا تھا۔

یورپی ممالک میں گذشتہ سال کے دوران دس لاکھ سے زیادہ تارکین وطن کی آمد ہوئی تھی اور ان میں سے زیادہ تر ترکی سے سمندری راستے کے ذریعے یونان اور دوسرے ممالک کی سرزمین پر پہنچے تھے۔نئے سال کے آغاز کے بعد یورپ پہنچنے والے غیرقانونی تارکین کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ ترکی میں اس وقت پچیس لاکھ شامی مہاجرین پناہ گزین ہیں۔

یورپی کمیشن نے تنظیم کے ترکی کو فنڈز مہیا کرنے سے متعلق فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک نیدرلینڈز کے وزیراعظم مارک روٹ کا کہنا ہے کہ ترکی کے ساتھ مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے تعاون میں انسانی اسمگلروں کو بھی ہدف بنایا جائے گا جو لوگوں کو نئے نئے راستوں کے ذریعے یورپی ممالک میں منتقل کرنے کا بندوبست کررہے ہیں۔

یورپی یونین کو دوسری عالمی جنگ کے بعد مہاجرین کے بدترین بحران کا سامنا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے رکن ممالک کے درمیان اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اٹھائیس رکن ممالک کو ترکی کو فنڈز مہیا کرنے کے لیے فیصلے میں دوماہ سے زیادہ عرصہ لگ گیا ہے حالانکہ بعض ممالک کے سربراہ ریاست یا حکومت اس اقدام کی منظوری دے چکے تھے۔

اب یورپی یونین اپنے بجٹ میں سے ترکی کو ایک ارب یورو مہیا کرے گی۔باقی دو ارب یورو تنظیم کے اٹھائیس رکن ممالک دیں گے۔ان میں جرمنی سب سے زیادہ رقم مہیا کرے گا اور وہ 2016ء میں بیالیس کروڑ پچھہتر لاکھ یورو دے گا۔برطانیہ بتیس کروڑ چھہتر لاکھ ،فرانس تیس کروڑ بانوے لاکھ ،اٹلی بائیس کروڑ انچاس لاکھ اور اسپین پندرہ کروڑ اٹھائیس لاکھ یورو ترکی کو دے گا۔