.

روس کا شام سے متعلق دعویٰ مضحکہ خیز ہے: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے روس کی جانب سے شام میں ترک حملے کی تیاریوں کے الزام پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز قرار دیا۔

ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی "اناطولیہ" کے مطابق ایردوآن کا کہنا تھا کہ "میں اس روسی بیان کو مضحکہ خیز سمجھتا ہوں بلکہ اصل میں روس ہے جو کہ شام پر حملے میں مصروف ہے۔"

اس سے قبل ترک حکومت کے ایک سینئیر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ترکی شام میں حملے کی کوئی تیاری نہیں کررہا ہے اور روس کی جان سے ایسا بیان محض پرپیگنڈہ ہے۔

ترکی کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ "ترکی کا شام میں کسی فوجی مہم یا زمینی چڑھائی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے جبکہ روس نے تو خود شام میں اپنی فوج مہم تیز کررکھی ہے اور وہ بحران کے حل کے لیے کوئی کام نہیں کررہا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ "ترکی داعش مخالف اتحاد کا حصہ ہے۔ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے اور وہ یہی سلسلہ جاری رکھے گا۔ ہم پہلے بھی بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ترکی یک طرفہ اقدام نہیں کرے گا۔"

روس نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی شام میں فوجی چڑھائی کی تیاری کررہا ہے جبکہ شام کے عسکری ذرائع کا کہنا تھا کہ سرکاری فورسز روس کی فضائی مدد سے بہت جلد حلب کا محاصرہ کرنے والی ہے۔

ترکی نے اس کے ردعمل میں کہا ہے کہ روس شام میں اپنے جرائم سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے اور اب حلب کو بھوک کا شکار کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ اس کو اپنی سلامتی کے لیے اقدامات کا حق حاصل ہے۔