.

یمن میں حوثی باغی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے مرتکب

اب شہر میں جنوری کے دوران جنگی جرائم کے 206 واقعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#یمن میں ایک سال سے حکومت پر قابض #حوثی ملیشیا اپنے زیرتسلط علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق جنوری کے مہینے میں اب گورنری میں حوثی باغیوں کے ہاتھوں قتل وغارت گری، تعذیب وتشدد، لوٹ مار، اغواء اور بم دھماکوں کے 206 واقعات درج کئے گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حوثی باغیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کی تفصیلات پر مبنی تازہ روپورٹ اِب گورنری کے مزاحمت انفارمیشن سینٹر وآبزرویٹری یونٹ کی جانب سے جاری کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری میں اب گورنری میں حوثیوں اور سابق صدر #علی_صالح کی وفادار ملیشیا کے ہاتھوں نہتے شہریوں کے اغواء کے 106 واقعات درج کیے گئے۔ سب سے زیادہ اغواء کی وارداتیں الکتبہ کالونی سے کی گئیں۔ مغویوں میں بچے، خواتین اور بوڑھے شہری بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حوثی غنڈہ گردوں کے ہاتھوں لوٹ مار کے 30 واقعات پیش آئے، ان میں 15 واقعات میں گھروں میں گھس کر لوٹ مار بھی شامل ہے۔ حوثیوں نے اسلحہ کی نوک پر شہریوں سے 10 گاڑیاں چھینی اور پانچ این جی اوز کے دفاتر میں بھی لوٹ مار کی۔

اب گورنری میں جنوری کے مہینے میں حوثی باغیوں نے تین عام شہریوں کو گولیاں مار کر قتل کردیا۔ مقتولین میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ تشدد کے دیگر واقعات میں چار شہری زخمی ہوئے۔

حوثی ملیشیا نے ماہ جنوری میں 28 مختلف تنظیموں کے دفاتر پر دھاوے بولے اور 22 گھروں پر چھاپے مار کر وہاں پرموجود خواتین اور بچوں کو زدو کوب کیا۔ السبرہ کے مقام پر 8 گھروں کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا۔ جنوری کے آخری ہفتے میں حوثیوں نے ایک مسجد کو بھی شہید کیا۔ جامعہ اب پر کئی بار چھاپے مارے گئے اور یونیورسٹی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق حوثی باغیوں نے ایک ماہ میں جامعہ اب کے طلباء اور اس کے عملے کو 8 بار زدو کوب کیا۔

حراست میں لیے گئے شہریوں پر بہیمانہ تشدد کے مظاہرے بھی بدستور جاری ہیں۔ یریم نامی ایک قید خانے میں پابند سلاسل قیدیوں کو اذیتیں دینے کا سلسلہ بھی بدستور جاری رہا۔ مساجد کو بھی قید خانوں کے طورپر استعمال کرنے کا ایک نیا اور مکروہ حربہ استعمال کیا گیا۔