.

دنیا بھر میں 34 گروپ داعش کے وفادار ہیں: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے ایک رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ دسمبر کے وسط تک دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' سے وفاداری کا اعلان کرنے والے گروپس کی تعداد 34 تک پہنچ گئی ہے اور 2016ء میں اس تعداد میں اضافہ ہی ہوگا۔

بین کی مون کے مطابق داعش ایک ایسا خطرہ ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی ہے کیوںکہ اس نے فلپائن، ازبکستان، پاکستان، لیبیا اور نائیجیریا میں موجود گروپوں کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو داعش سے وابستہ گروپس کی جانب سے حملوں میں اضافے اور دوسرے ملکوں میں منتقل ہو کر اپنے نیٹ ورک کو پھیلانے کی کوششوں سے خبردار رہنا چاہئیے ہے۔

یو این سربراہ کا کہنا تھا کہ "دولت اسلامیہ کی جانب سے مغرب اور شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ، جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا میں پھیلنے سے ہمیں اس خطرے کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے جو کہ محض 18 ماہ کے دوران اس قدر سنگینی اختیار کرگیا ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس گروپ کے پھیلنے کے ساتھ ساتھ یہ دنیا کا سب سے امیر دہشت گرد گروپ بھی ہے جو کہ پابندیوں کے باوجود 2015ء میں 400 سے 500 ملین ڈالر تک کما چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے عراقی مشن کے اعداد وشمار کے مطابق داعش کے تسلط سے آزاد کروائے جانے والے علاقوں میں بینکوں سے اکٹھی کی جانے والی نقد رقم ایک ارب ڈالر کے قریب ہے۔ مشن نے مزید اندازہ لگایا ہے کہ داعش کے علاقے میں داخل ہونے والے ٹرکوں پر لگائے جانے والے ٹیکسوں کی آمدنی بھی ایک ارب ڈالر کے قریب ہے۔