.

شام : بریگیڈ کمانڈر سمیت ایرانی پاسدران کے مزید 24 ارکان ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام کے شہر #حلب کے شمال میں دو قصبوں پر حملے کی کارروائی میں ایرانی #پاسداران_انقلاب کے 24 ارکان ہلاک ہوگئے۔ شامی حکومت نواز قصبوں "نبل" اور "الزہراء" میں آپریشن کے دوران مارے جانے والوں میں، ایرانی شہر نیشاپور میں پاسداران انقلاب کی آرمرڈ بریگیڈ 21 کے کمانڈر میجر جنرل محسن قاجاریان بھی شامل ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے زیرانتظام زمینی فوج کے سربراہ محمد پاکپور نے ایک سرکاری بیان میں قاجاریان کی موت پر تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا۔ پاکپور کے مطابق محسن قاجاریان "شام کی سرکاری فوج کی معاونت اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں ایک مشاورتی مشن کے دوران ہلاک ہوئے"۔

"فارس" نیوز ایجنسی کے مطابق ان نئی ہلاکتوں میں ایرانی شہر قم میں آرمرڈ بریگیڈ 17 سے تعلق رکھنے والے پاسداران انقلاب کے دو افسران محمد حسین سراجی اور سجاد روشنائی بھی ہیں جو لڑائی کے دوران مارے گئے۔

ان کے علاوہ 7 دیگر ارکان کو بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ ان کے نام رضا عادلی، علی حسین کاهكش، علی رضا حاجی وند، فیروز حمیدی‌ زاده، محمد ابراهیم توفیقیان، مرتضی ترابی اور جواد محمدی ہیں۔

ایرانی ایجنسیوں نے بتایا ہے کہ ان افراد میں سے اکثریت کا تعلق باسیج فورس کے زیرانتظام یونٹ "فاتحين" سے ہے۔ ان کو متعدد فوجی تربیتوں کے مکمل کرنے کے بعد شام بھیجا گیا تھا۔

یاد رہے کہ پاسدران انقلاب اور شیعہ افغان اور عراقی ملیشیائیں انقلابیوں کی بریگیڈز کے ساتھ سخت لڑائی کے بعد، حلب کے شمال میں واقع دو قصبوں نبل اور الزہراء میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئیں تھیں۔ اس دوران روسی طیاروں کے شدید حملوں کا سلسلہ جاری بھی جاری رہا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایسی تصاویر اور وڈیو کلپس نشر کیے ہیں جن میں پاسداران انقلاب اور ملیشیاؤں کے افغان، عراقی اور پاکستانی ارکان کو نبل اور الزہراء قصبوں کے اندر دیکھا جاسکتا ہے۔

دونوں قصبوں کے اطراف جمعہ کی صبح تک لڑائی کا سلسلہ جاری رہا۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس دوران انقلابیوں نے "نبل" کے احاطے میں شامی فوج کے اہل کاروں سے بھری ایک بس کو ٹینک شکن میزائل ٹاؤ کے ذریعے نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔