.

اوباما کا "داعش" سے متعلق سعودی اعلان کا خیر مقدم

"داعش" کے مقابلے کے لیے فوجی تربیت کا آغاز مارچ میں ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

واشنگٹن میں وہائٹ ہاؤس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے سعودی عرب کی جانب سے "داعش" تنظیم کے خلاف لڑائی میں اپنی شرکت کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

سعودی وزیر دفاع کے دفتر کے مشیر بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب شام میں بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہو کر کسی بھی بری کارروائی میں شرکت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ سعودی عرب واحد ملک نہیں جو "داعش" سے برسرجنگ ہونے کے لیے اپنی عسکری کوششوں میں اضافہ کررہا ہے، تقریبا بیس عرب اور اسلامی ممالک اس مقصد کے لیے تربیت اور تیاری میں اپنی افواج کو یکجا کریں گے۔

عسیری کے مطابق سعودی فوج "داعش" تنظیم کا سامنا کرنے کی تیاریوں کے سلسلے میں اس وقت مملکت کے شمال میں فوجی تربیتوں کی منصوبہ بندی کررہی ہے، توقع ہے کہ مارچ میں ان تربیتوں کا آغاز ہوجائے گا۔

وہائٹ ہاؤس ترجمان جوش ارنیسٹ کا کہنا ہے جمعرات کے روز کیا جانے والا سعودی اعلان امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر کی اس درخواست کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں کارٹر نے اتحاد میں شریک ممالک سے کہا تھا کہ وہ دہشت گرد تنظیم (داعش) کے خلاف لڑائی میں اپنے کردار کو بڑھائیں۔

ارنیسٹ نے صحافیوں کو مزید بتایا کہ "ہم سعودی عرب کی جانب سے اس کوشش میں اپنی فوجی شرکت کی سطح کو بڑھانے کے اعلان کا یقینا خیرمقدم کرتے ہیں"۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی جانب سے بری افواج یا خصوصی کمانڈوز کے ذریعے شرکت کے حوالے سے تفصیلات موجود نہیں ہیں۔

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے ذمہ داران نے بھی شام میں ممکنہ زمینی کارروائی میں شرکت کے لیے فوج بھیجے جانے کی سعودی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی کمان کے ترجمان کرنل پیٹرک رائیڈر کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی اتحادی افواج میں شمولیت کے لیے سعودی عرب کی جانب سے بھیجی جانے والی ممکنہ فورس کی نوعیت ابھی تک زیربحث ہے۔

​اس سے قبل امریکی وزیر دفاع نے کہا تھا کہ اس معاملے کو بین الاقوامی اتحاد کے آئندہ ہفتے برسلز میں ہونے والے اجلاس میں سعودی ذمہ داران کے ساتھ زیربحث لایا جائے گا۔

دوسری جانب مملکت بحرین نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی بری افواج شام بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ برطانیہ میں بحرین کے سفیر الشيخ فواز بن محمد آل خليفہ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ تعاون سے اپنی فوج کے ذریعے حصہ لے سکتا ہے۔ ادھر ترکی کا بھی کہنا ہے کہ وہ انفرادی طور پر شام میں کارروائی نہیں کرے گا تاہم بین الاقوامی اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے۔