.

امریکا، سعودی عرب: شام میں جنگ بندی کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور سعودی عرب میونخ میں اسی ہفتے شام امن مذاکرات سے قبل جنگ زدہ ملک میں فائربندی کے لیے کوشاں ہیں۔

اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے سوموار کو واشنگٹن میں ملاقات جنگ بندی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔میونخ میں شام حمایت گروپ میں شامل سترہ ممالک کا اسی ہفتے اجلاس ہوگا اور اس میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں شام کے متحارب گروپوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جائےگا۔

جان کیری اور عادل الجبیر نے نیوز کانفرنس میں اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ شام رابطہ گروپ میں شامل ممالک میں جنگ زدہ ملک میں فوری جنگ بندی کے لیے اتفاق ہوجائے گا۔اس گروپ میں شامی صدر بشارالاسد کے اتحادی روس اور ایران بھی شامل ہیں۔

عادل الجبیر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ ''خطے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ہم ان مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں قبل اس کے کہ یہ ہم سب کو کھا جائیں''۔

دونوں وزرائے خارجہ نے دسمبر میں اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرارداد نمبر 2254 کا حوالہ دیا ہے۔اس میں جنگ بندی اور شام کے محاصر زدہ قصبوں اور شہروں میں انسانی امداد بہم پہنچانے پر زوردیا گیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا:''ہمیں امید ہے کہ جب ہم آیندہ چند روز میں میونخ میں مل بیٹھیں گے تو ہم اس پوزیشن میں ہوں گے کہ اس مقصد کے حصول کی جانب پیش رفت کرسکیں''۔

واضح رہے کہ روس بھی ان ممالک میں شامل تھا جنھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دسمبر میں قرارداد نمبر 2254 کی حمایت کی تھی لیکن اب اس نے اپنے اتحادی بشارالاسد کی حمایت میں ان کے مخالف باغی گروپوں پر فضائی بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔

باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر روسی بمباری ہی کو جواز بنا کر سعودی عرب کے حمایت یافتہ حزب اختلاف کے اتحاد نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی ثالثی اور میزبانی میں امن مذاکرات کو جاری رکھنے اور ان میں تعاون کرنے سے انکار کردیا تھا۔اب اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی مستورا جنیوا امن مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششیں کررہے ہیں لیکن وہ شام رابطہ گروپ میں شامل ممالک پر بھی انحصار کررہے ہیں کہ وہ اس مقصد کے لیے متحارب فریقوں پر دباؤ ڈالیں۔