.

انڈونیشیا : داعش کے سات مدد گاروں کو جیل کی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انڈونیشیا کی ایک عدالت نے سات مشتبہ افراد کو سخت گیر جنگجو گروپ داعش کی مدد کے الزام میں قصوروار قرار دے کر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

دارالحکومت جکارتہ میں قائم عدالت کے جج سیاہلان نے منگل کے روز فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ''یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مدعاعلیہان نے دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں معاونت اور مدد کی تھی''۔انھوں نے قراردیا ہے:''یہ ثابت کرنا ضروری نہیں کہ انھوں نے فی الحقیقت کوئی حملہ بھی کیا تھا''۔

عدالت نے ان مدعاعلیہان کو شام میں ایک فوجی کیمپ میں انتہا پسندانہ نظریے کے پروپیگنڈے کی تربیت لینے اور انڈونیشی شہریوں کو مشرق وسطیٰ میں داعش میں شمولیت کے لیے بھیجنے کے الزام میں قصور وار قرار دیا ہے اور انھیں تین سے پانچ سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

جکارتہ میں گذشتہ ماہ بم دھماکے اور مسلح افراد کے حملے کے بعد سے انڈونیشیا بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔اس حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں چار حملہ آور بھی شامل تھے۔

انڈونیشی حکومت اس وقت انسداد دہشت گردی کے قوانین کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کا مقصد شہریوں کو سخت گیر بننے اور جنگجو گروپوں میں شمولیت سے روکنا ہے۔انڈونیشی حکام کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کے الزام میں قصور وار مشتبہ افراد کے لیے جیل کی مدت میں اضافے پر بھی غور کررہے ہیں۔اس کے علاوہ مشتبہ جنگجوؤں کو کسی الزام کے بغیر چودہ روز کے لیے حراست میں لینے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

انڈونیشیا کی انسداد دہشت گردی پولیس نے گذشتہ دو ماہ کے دوران قریباً پچاس افراد کو بم حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ان میں سے بعض افراد جکارتہ میں گذشتہ ماہ دہشت گردی کے واقعے میں ملوّث تھے۔