.

ترکی سرحد بند نہیں کرے گا،70 ہزار شامیوں کی آمد متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام کے ساتھ اپنی سرحد کو بند نہیں کرے گا اور سرحدی گذرگاہوں پر ستر ہزار سے زیادہ شامی مہاجرین کی آمد متوقع ہے۔

شام کے شمالی شہر حلب اور اس کے نواحی علاقوں میں روس کی فضائی مدد سے صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کی باغیوں کے خلاف بڑی کارروائی کے بعد سے مزید ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے گذشتہ روز ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ''شام کے شمال مغربی علاقے کے ساتھ سرحد پر کم سے کم سے تیس ہزار شامی مہاجرین اپنا گھر بار چھوڑ کر آگئے ہیں''۔

ترکی پر شامی مہاجرین کے لیے اپنی سرحدیں کھولنے کا دباؤ ہے۔داؤد اوغلو کا کہنا تھا کہ ان شامی مہاجرین کو ضرورت کی صورت میں ملک میں پناہ دی جاسکتی ہے لیکن ترکی سے یہ توقع نہ رکھی جائے گی کہ وہ اکیلے ہی مہاجرین کے مسئلے سے نمٹے گا اور تنہا ان کا بوجھ اٹھائے گا''۔واضح رہے کہ اس وقت ترکی میں قریباً ستائیس لاکھ شامی مہاجرین رہ رہے ہیں۔