.

حوثی باغیوں پر تعز میں ادویہ اور طبی سامان روکنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں پر یمن کے جنوب مغربی شہر تعز میں ادویہ اور کھانے پینے کی ضروری اشیاء کی سپلائی کو گذشتہ تین ماہ سے روکے رکھنے کا الزام عاید کیا ہے۔

ایمنسٹی نے منگل کے روز ایک رپورٹ میں شہر کے بائیس مکینوں اور طبی عملے کے حوالے سے بتایا ہے کہ شہر کے بیشتر اسپتال ادویہ اور طبی سازوسامان مہیا نہ ہونے کی وجہ سے بند ہوچکے ہیں اور باقی بھی بند ہونے کے قریب ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''ایک مکین کا نومولود بچہ آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے پیدائش کے چند گھنٹے کے بعد ہی موت کے مُنھ میں چلا گیا تھا۔شہر کے اسپتالوں میں آکسیجن کم یاب ہے''۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا کے لیے ڈائریکٹر جیمز لینچ نے کہا ہے کہ ''حوثی باغی جان بوجھ کر یمن کے تیسرے بڑے شہر میں اشیائے ضروریہ اور ادویہ کی سپلائی کو جانے سے روک رہے ہیں۔اس سے انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور اس کے تعز کے مکینوں کے لیے تباہ کن اثرات ہوسکتے ہیں''۔

ڈائریکٹر نے انسانی امداد روکنے کے عمل کو بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''مکین تعز میں محصور ہو کررہ گئے ہیں اور انھیں بنیادی ضروریات سے بھی محروم رکھا جارہا ہے۔یہ شہری آبادی کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے''۔

حوثی باغیوں نے گذشتہ کئی ماہ سے تعز کا محاصرہ کررکھا ہے اور شہر کی جانب آنے والے اور باہر جانے والے تمام راستوں پر حوثی باغیوں کا کنٹرول ہے۔شہر کے مغرب میں واقع الضحی کراسنگ ہی صرف کھلی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تعز سے تعلق رکھنے والے پانچ ڈاکٹروں سے گفتگو کے حوالے سے بتایا ہے کہ ''انھیں حوثی باغیوں سے جنوبی مزاحمت سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے درمیان زخمی ہونے والوں کے علاج معالجے کے لیے آکسیجن اور آلات جراحی کی اشد ضرورت ہے''۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ تعز میں قریباً 80 فی صد دکانیں بند ہیں اور اسمگل کر کے لائی جانے والی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں چار سے پانچ گنا بڑھ چکی ہیں۔ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ یمن میں بریڈ اور خوراک کی قیمتیں دُگنا ہوچکی ہیں۔