.

شام میں لڑائی کے بعد ترک سرحد پر 30 ہزار مہاجرین جمع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر حلب اور اس کے نواحی علاقوں میں روس کی فضائی مدد سے اسدی فوج کی باغیوں کے خلاف بڑی کارروائی کے بعد ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے بتایا ہے کہ کم سے کم سے تیس ہزار شامی مہاجرین اپنا گھر بار چھوڑ کر ترک سرحد پر آگئے ہیں۔

ترکی پر شامی مہاجرین کے لیے اپنی سرحدیں کھولنے کا دباؤ ہے۔داؤد اوغلو کا کہنا ہے کہ ان شامی مہاجرین کو ضرورت کی صورت میں پناہ دی جاسکتی ہے لیکن ترکی سے یہ توقع نہ رکھی جائے گی کہ وہ اکیلے ہی مہاجرین کے مسئلے سے نمٹے گا اور تنہا ان کا بوجھ اٹھائے گا۔

انھوں نے جرمن چانسلراینجیلا میرکل کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ ''شام کے شمال مغربی علاقے کے ساتھ سرحد پر قریباً تیس ہزار شامی جمع ہوچکے ہیں۔یہ بارڈر بدستور بند ہے''۔

انھوں نے کہا:''ظاہر ہے۔ہمیشہ کی طرح اگر ضروری ہوا تو ترکی ان مہاجرین کو قبول کرے گا اور ہم اپنے شامی بھائیوں کو پناہ دیں گے'' لیکن ساتھ ہی انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ''کسی کو یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ ترکی اکیلے ہی تمام شامی مہاجرین کا بوجھ اٹھائے گا''۔واضح رہے کہ اس وقت ترکی میں قریباً ستائیس لاکھ شامی مہاجرین رہ رہے ہیں۔

جرمن چانسلر میرکل کے اس دورے کا مقصد ترک قیادت کے ساتھ مہاجرین کو یورپ کی جانب جانے سےروکنے کے لیے سمجھوتے پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔یورپی یونین کے رکن ممالک نے حال ہی میں شامی مہاجرین کو ترکی تک محدود رکھنے کے لیے مالیاتی پیکج کی منظوری دی ہے جس کے تحت ترکی کو ان مہاجرین کی دیکھ بھال کے لیے امداد دی جائے گی۔

داؤد اوغلو کا کہنا تھا کہ ''ترکی اور جرمنی مل کر یورپی یونین کی بارڈر ایجنسی فرونٹیکس کو فعال بنانے کے لیے کام کریں گے''۔

35 تارکینِ وطن کی ہلاکت

جرمن چانسلر کے اس دورے کے موقع پر ہی سوموار کے روز ترکی کے ساحلی علاقوں میں کشتیوں کے دو افسوس ناک حادثات پیش آئے ہیں۔ان کشتیوں میں سوار پینتیس افراد یونان جانے کی کوشش کے دوران ڈوب کر جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

ترک میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مغربی صوبے بلکسیر کی حدود میں بحیرہ ایجیئن میں ایک کشتی الٹ جانے سے چوبیس افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔وہ کشتی کے ذریعے یونانی جزیرے لیسبوس کی جانب رواں دواں تھے کہ ان کی کشتی غرقاب ہوگئی۔ڈوبنے والے چار افراد کو ترکی کے ساحلی محافظوں نے زندہ بچالیا ہے۔قبل ازیں ترکی کے ساحلی شہر ازمیر کے جنوب میں کشتی کے ایک اور حادثے میں گیارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔وہ بھی لیسبوس کی جانب جارہے تھے۔

ترک حکومت اور یورپی یونین کے درمیان نومبر میں مہاجرین کو یورپ جانے سے روکنے سے متعلق تین ارب یورو ( 3.2 ارب ڈالرز) مالیت کی ڈیل طے پائی تھی۔یورپی تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان اس ڈیل کے تحت ترکی کو رقوم مہیا کرنے لیے گذشتہ بدھ کو ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔

لیکن اس ڈیل اور شدید سرد موسم کے باوجود یورپ جانے والے ''عازمین'' کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے اور غیر قانونی تارکین وطن سے لدی کشتیوں کی یونان کے جزیروں میں روزانہ آمد ہورہی ہے۔