.

پیوٹن کو دمشقی تلوار، شاہ بحرین کو‘‘حجی بک’’ کا تحفہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور خلیجی ریاست بحرین کے فرمانروا حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے درمیان دمشقی تلوار اور نایاب نسل کے گھوڑے کے تحفوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ شاہ حمد بن عیسیٰ نے سیاحتی مقام ‘‘سوچی’’ میں روسی صدر کو اپنی جانب سے ایک گراں قیمت دمشقی تلوار کا تحفہ پیش کیا جب کہ پیوٹن نے اس کے بدلے میں ‘‘حجی بک’’نامی ایک گھوڑا انہیں ہدیہ کیا ہے۔ اس گھوڑے کی عمر صرف چار سال ہے۔ اس نسل کے گھوڑے اب تک کئی عالمی مقابلوں میں میڈل حاصل کر چکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے روسی ویب سائیٹ ‘‘اسپوٹنیک’’ کے حوالے سے بتایا ہے کہ سوشل میڈیا پر دونوں رہ نماؤں کے تحائف کے تبادلے پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ ماسکو کے ایک صحافی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ولادی میر پیوٹن کو تحفے میں ملنے والی تلوار کا دستہ ایک گراں قیمت دھات سے تیار کردہ ہے۔

دونوں رہ نماؤں میں تحائف کا تبادلہ لائیو کوریج میں ہوا اور روس اور بحرین سمیت دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی دیکھا گیا۔ تحائف کے تبادلے کے وقت کی ایک فوٹیج ویڈیو شیئرنگ ویب سائیٹ ‘‘یوٹیوب’’ پر بھی موجود ہے جس میں شاہ بحرین کو دمشقی تلوار کا نام لیتے سنا جا سکتا ہے جب کہ سنہ 2012ء میں پیدا ہونے والے’’اخال تیکی‘‘ نامی اعلیٰ نسل کے گھوڑے کو صدر پیوٹن ‘‘حجی بک’’ کے لقب سے پکارتے ہیں۔ روس میں گھوڑے کا یہ عجیب وغریب نام کیوں رکھا گیا، اس کی وجہ تسمیہ معلوم نہیں ہو سکی۔

حجی بک ایک سال قبل گھوڑ دوڑ کے تین عالمی مقابلوں میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ ان میں اول پوزیشن حاصل کر چکا ہے۔ اس کے ہم نسل ایک گھوڑے نے گذشتہ بر ‘‘عالمی ہیرو’’ کا لقب پایا۔اس سے قبل یہ گھوڑ دوڑ کی عالمی چیمپیئن شپ جیت چکا ہے۔ جہاں تک دمشقی تلوار کا تعلق ہے وہ اس کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اسے شاہ حمد کی خصوصی ہدایت پر تیار کیا گیا۔ دمشقی لوہے سے تیار کردہ اس تلوار کا دستہ سونے اور چاندی سے تیار کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ بحرینی فرمانروا حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے اتوار کو روس کا دورہ کیا۔ اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے روسی صدر سے دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور انسداد دہشت گردی سمیت مختلف عالمی موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہ نماؤں میں مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کی داخلی صورت حال بھی زیربحث آئی۔ بحرینی فرمانروا کا یہ تیسرا دورہ روس ہے۔