.

یو اے ای : حزب اللہ اور القاعدہ سیل کے خلاف مقدمے کی سماعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے وابستہ تین افراد اور القاعدہ سے وابستہ سیل سے تعلق رکھنے والے تییئس افراد کے خلاف الگ الگ مقدمات کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔

اخبار امارات الیوم کی رپورٹ کے مطابق تین لبنانی افراد کے خلاف حزب اللہ سے وابستہ بلا اجازت ایک گروپ تشکیل دینے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔انھیں سوموار کے روز ابوظبی کی اسٹیٹ سکیورٹی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

ان تینوں میں ایک کینیڈین شہری ہے اور اس کے ملک کے قونصل خانے کے نمائندے بھی مقدمے کی سماعت کے وقت عدالت میں موجود تھے۔تینوں ملزموں نے اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔اس مقدمےکی مزید سماعت 15 فروری تک ملتوی کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال مارچ میں لبنانی حکومت نے کہا تھا کہ ستر لبنانیوں کو متحدہ عرب امارات سے بے دخل کردیا گیا ہے۔ان میں زیادہ تر شیعہ تھے۔2009ء میں بھی حزب اللہ سے تعلق کے شُبے میں بیسیوں لبنانی شیعوں کو یو اے ای سے بے دخل کردیا گیا تھا۔

ابوظبی کی ایک اور عدالت میں تیئیس مدعاعلیہان کے خلاف القاعدہ سے وابستہ سیل تشکیل دینے کے الزام میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی ہے۔ان میں زیادہ تر یمنی ہیں اور دو ملزم مفرور ہیں۔ان کے خلاف مقدمے کی مزید سماعت 7 مارچ تک ملتوی کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے مقامی خود ساختہ امیر کے خلاف چند روز قبل ہی وفاقی عدالتِ عظمیٰ کے تحت اسٹیٹ سکیورٹی عدالت میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تھی۔اس اماراتی پر دارالحکومت ابوظبی میں فارمولا 1 سرکٹ سمیت مختلف اہداف پر حملوں کی سازش کا الزام ہے۔

اس اماراتی شخص اور اس کی بیوی نے سوشل میڈیا کے ذریعے داعش کے خلیفہ ابوبکرالبغدادی کی بیعت کی تھی۔ اس کی اہلیہ علاء بدرالہاشمی نے امریکی اسکول ٹیچر آئیبولیا ریان کو دسمبر 2014ء میں ابوظبی شاپنگ مال کے ایک واش روم میں چاقو کے پے درپے وار کرکے قتل کردیا تھا۔قاتلہ کو عدالت نے قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی اور اس کو گذشتہ سال جولائی میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ہے اور اس کے لڑاکا طیارے بھی ستمبر 2014ء سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔یو اے ای نے اسلام پسندوں کے حوالے سے سخت موقف اختیار کررکھا ہے اور گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کے دوران اخوان المسلمون، القاعدہ یا ان سے وابستہ گروپوں سے تعلق کے الزام میں بیسیوں افراد کو لمبی مدت کی قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔