.

امریکی فوجی پر داعش میں شمولیت کے شبہے پر مقدمہ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے #شام کا سفر کرنے کے الزام میں گرفتار فضائیہ کے سابق اہلکار پر امریکی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

'ٹیریڈ پیو' نامی 48 سالہ امریکی فوجی پر الزام ہے کہ اس نے دولت اسلامیہ عراق وشام '#داعش' کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے خلاف نیویارک میں مقدمہ چلایا جائے گا اور یہ امریکا میں اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہو گا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائیٹرز' کے مطابق ٹیریڈ 2014ء سے اب تک داعش سے تعلق کے شبے میں گرفتار ہونے والے 80 افراد میں سے ایک ہے اور امریکی حکام کی کوشش ہے کہ وہ امریکا میں چھپے داعش کے تمام ممکنہ حامیوں کو ڈھونڈ نکالیں۔

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی بیورو 'ایف بی آئی' کا کہنا ہے کہ اس نے امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں داعش کے مبینہ حامیوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

امریکی پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ 1986 سے 1990 تک امریکی فضائیہ میں خدمات انجام دینے والے 'ٹیریڈ پیو' نے جنوری 2015 میں قاہرہ سے استنبول کے لئے یک طرفہ ٹکٹ خریدا تھا۔ ان کے مطابق پیو کا مقصد ترکی سے شام میں داخل ہو کر داعش میں شمولیت اختیار کرنا تھا۔

مگر ترک حکام نے اس کوشش کو ناکام بناتے ہوئے اسے قاہرہ واپس بھیج دیا جہاں پر حکام نے اس کی تلاشی کے دوران دریافت کیا کہ اس کے پاس متعدد ٹوٹے ہوئے برقی آلات تھے جن میں ایک موبائل فون بھی شامل تھا جس میں ایک ہتھیار کی تصویر موجود تھی۔

اس کارروائی کے بعد مصری حکام نے پیو کو امریکا 'ڈی پورٹ' کردیا جہاں انہوں نے ایک انڈر کور ایجنٹ کو بتایا کہ وہ داعش میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے ترکی گئے تھے۔

پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ پیو کے لیپ ٹاپ کمپیوٹر میں داعش کی پروپیگنڈا وڈیوز اور ایک خط کا خاکہ موجود تھا جو کہ اس نے 2014ء میں مصر میں موجود اپنی بیوی کو لکھا تھا جس میں اس نے اپنی تمام صلاحیتیوں کو داعش کے دفاع کے لئے استعمال کرنے کا عہد کیا تھا۔

امریکی فوجی کے وکیل ایریک کریزمین نے اس خط کو عدالتی کارروائی میں پیش کرنے سے روکنے کے لئے باضابطہ کوشش شروع کردی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ خط شادی شدہ جوڑے کے درمیان مراسلت کے زمرے میں آتا ہے جس کی بناء پر ان کی ذاتی زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے خط کو عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ٹیریڈ پیو کا کہنا ہے کہ وہ مجرم نہیں ہے اور وہ صرف کام کی تلاش میں ترکی گیا تھا۔

عدالت میں جمع کرائی جانے والی دستاویزات کے مطابق یہ فوجی اس سے پہلے 2001 میں بھی حکام کی نظروں میں آ چکا ہے کیونکہ اس کے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص نے ایف بی آئی کو بتایا تھا کہ پیو اسامہ بن لادن کا حامی تھا، اور سمجھتا تھا کہ 1998 میں امریکی سفارت خانوں پر ہونے والی بمباری صحیح عمل تھا۔

اس کے علاوہ 2002 میں ایک اور شخص نے اس فوجی کے حوالے سے ایف بی آئی کو بتایا کہ وہ چیچنیا میں جا کر لڑائی میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کرچکا ہے۔

اس کے بعد کے دورانیے میں پیو نے عراق میں ایک نجی کمپنی کے لئے کنٹریکٹر کے طور پر کام کیا اور اس کے بعد وہ مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں بطور جہاز مکینک کام کرتا رہا۔