.

امریکی پابندیاں مسترد،ایران عماد میزائل کو اپ گریڈ کرے گا

ایران کو دوماہ میں روس سے ایس-300 میزائل دفاعی نظام کی ترسیل شروع ہوجائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے امریکا کی تنقید اور پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس سال کے دوران اپنے عماد بیلسٹک میزائلوں کو اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایران کے وزیر دفاع حسین دہقان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ روس سے آیندہ دوماہ کے دوران ایس 300 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل دفاعی نظام بھی ملنا شروع ہوجائے گا۔قبل ازیں روس نے ایران پر عاید بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے اس کو یہ میزائل دفاعی نظام مہیا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے حسن دہقان کا یہ بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''ہم عماد میزائل کی ترقی یافتہ قسم کو ایران کے نئے سال کے آغاز کے موقع پر منظرعام پر لائیں گے''۔ ایران کے سال نو (نوروز) کا آغاز 20 مارچ کو ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''عماد میزائل جوہری ڈیل یا اقوام متحدہ کی کسی قرارداد کی خلاف ورزی نہیں ہے کیونکہ ہم اس کے ذریعے جوہری وارہیڈ استعمال نہیں کریں گے۔یہ محض ایک الزام ہی ہے''۔ان کا کہنا تھا کہ ان میزائلوں کی وسیع پیمانے پر پیداوار کا عمل مستقبل قریب میں شروع کیا جائے گا۔

ایران نے گذشتہ سال اکتوبر میں عماد میزائل کا پہلی مرتبہ تجربہ کیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ یہ نیا میزائل اس کے روایتی سد جارحیت کا اہم حصہ ہو گا مگر امریکا نے ایران کو اس میزائل کے تجربے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اس کا کہنا تھا کہ عماد میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے،اس لیے اس کا تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد کی خلاف ورزی ہے۔امریکی محکمہ خزانہ نے گذشتہ ماہ ہی ایران کے میزائل پروگرام سے وابستہ افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں عاید کی تھیں۔

حسین دہقان نے اپنے بیان میں یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ''ایران کو آیندہ دوماہ میں روس سے ایس-300میزائل دفاعی نظام کی ترسیل کا عمل شروع ہونے والا ہے اور اس سال کے اختتام تک اس آرڈر کی تکمیل ہوجائے گی''۔

یادرہے کہ روس نے مغرب کے دباؤ کے بعد 2010ء میں ایران کے ساتھ اس جدید میزائل شکن راکٹ سسٹم کی فروخت سے متعلق معاہدے کو منسوخ کردیا تھا۔اس نے یہ اقدام ایران پر اس کے جوہری تنازعے پر عالمی پابندیاں عاید ہونے کے بعد کیا تھا۔

حسین دہقان کا کہنا تھا کہ ایران نے روس سے سخوئی-30 لڑاکا جیٹ خرید کرنے کے لیے بھی بات چیت شروع کردی ہے۔واضح رہے کہ ایران روس کا قریبی اتحادی ہے اور وہ اس کے اسلحے کا بھی بڑا خریدار ملک ہے۔