.

عراق، شام میں مداخلت نے جوہری تنازعے کے حل میں مدد دی: روحانی

ایرانی مذاکرات کاروں کی خدمات کو خراج تحسین پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#ایران کے صدر #حسن_روحانی نے کہا ہے کہ #شام اور #عراق میں ہماری فوجی مداخلت نے چھ عالمی طاقتوں اور #تہران کے درمیان جوہری تنازع پر مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر ہم ان ملکوں میں فوجی مداخلت نہ کرتے تو عالمی برادری بات چیت پر مجبور نہ ہوتی۔ ان کا اشارہ ایک سال قبل گروپ چھ اور تہران کے درمیان طے پائے اس معاہدے کی جانب تھا جس کے تحت ایران نے اپنے نیوکلیر پروگرام سے دستبرداری کا اعلان کیا اور اس کے بدلے میں مغرب نے تہران پر عاید اقتصادی پابندیاں اٹھانے سے اتفاق کیا تھا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’تسنیم‘‘ کے مطابق صدر حسن روحانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ‘‘شام اور عراق میں ہمارے عسکری مشیروں کی موجودگی نے ایران کے لیے حفاظتی دیوار کا کام کیا۔ شام اور عراق میں ہماری موجودگی نے دنیا کو ہم سے بات چیت پرآمادہ کرنے میں معاونت کی جس کے بعد چھ عالمی طاقتوں نے تہران سے بات چیت شروع کی تھی۔"

ایرانی مذاکرات کاروں کے اعزازمیں منعقدہ تقریب سے خطاب میں صدر مملکت نے کہا کہ ’ اگر ہمارے جرنیل عراق کے بغداد، سامراء، الفلوجہ، تکریت ، الرمادی اور شام کے دمشق، حلب اور دوسرے شہرں میں لڑائی میں شامل نہ ہوتے اور ہماری پولیس، انٹیلی جنس ادارے، پاسداران انقلاب اور وزارت سراغ رسانی اپنا کردار ادا نہ کرتے توہم مذاکرات میں بہترین پوزیشن پرنہیں آسکتے تھے‘۔

اس موقع پر وزیراعظم نے جوہری معاہدے کے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرنے والے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، قومی توانائی ایجنسی کےوزیر علی اکبر صالحی اور وزیردفاع حسین دھقان کو تمغہ شجاعت سے نوازا اور مذاکرات کامیاب بنانے میں ان کی مساعی کو خراج تحسین پیش کیا۔

خیال رہے کہ ایرانی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک جانب تہران کو شام میں بھاری جانی نقصان کا سامنا ہے مگر ساتھ ہی ایران کا سرکاری موقف یہ رہا ہے کہ اس نے مغرب سے مذاکرات صرف جوہری تنازع پر کیے ہیں۔ ان مذاکرات کا علاقائی تنازعات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔