.

مستعفی فرانسیسی وزیر خارجہ کی شام میں امریکی کردار پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے سبکدوش ہونے والے وزیر خارجہ لوراں فابیئس نے شام میں امریکا کے مبہم کردار پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ''واشنگٹن کی جانب سے کوئی مضبوط عزم نظر نہیں آتا ہے''۔

لوراں فابیئس نے بدھ کے روز مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد پیرس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اس میں (امریکی پالیسی میں) بہت زیادہ ابہام ہیں۔اس کے پیش نظر آپ کو کوئی مضبوط احساس نہیں ہوتا ہے''۔

انھوں نے یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب شامی فورسز روس اور ایران کی پشت پناہی اور عسکری مدد کے بعد شمالی شہر حلب کا گھیرا تنگ کررہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ''الفاظ تو بولے جاتے ہیں لیکن عملی اقدام کوئی اور چیز ہے''۔

مسٹر فابیئس کا کہنا تھا کہ ''ظاہر ہے،روسی اور ایرانی اس کو (عملی اقدام کو ) سمجھتے ہیں اور شامی صدر بشارالاسد پھر سے مضبوط ہورہے ہیں''۔

انھوں نے روس کی شام میں فضائی مہم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور روس پر اپنے اس الزام کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لڑاکا طیارے جنگ زدہ ملک میں داعش سے زیادہ اعتدال پسند حزب اختلاف کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

مستعفی فرانسیسی وزیر خارجہ نے چند روز قبل ہی شام اور روس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شہریوں کے خلاف فوجی کارروائیاں بند کردیں اور خاص طور پر محاصرہ زدہ قصبے مضایا میں لوگوں کی مشکلات کم کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ شامی صدر بشارالاسد اقتدار میں نہیں رہ سکتے ہیں اور فرانس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے شامی شہریوں پر بلاامتیاز حملوں کو رکوانے کے لیے مشاورت کرےگا تاکہ شام پر اس ضمن میں دباؤ ڈالا جا سکے۔

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند بھی شام میں روس کی فوجی مداخلت کی مخالفت کرچکے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ یہ فوجی مداخلت بشارالاسد کے اقتدار کو بچا نہیں سکے گی۔فرانس امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ہے اور اس کے لڑاکا طیارے بھی شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ روس 30 ستمبر2015ء سے شام میں بشارالاسد کی مسلح افواج کی مدد کے نام پر داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف فضائی حملے کررہا ہے۔روس کی فوجی مداخلت کے بعد شام میں داعش مخالف جنگ پیچیدہ صورت اختیار کرچکی ہے۔

روسی لڑاکا طیارے داعش کے بجائے دوسرے باغی گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس فضائی بمباری کے نتیجے میں اسدی فوج ایک مرتبہ پھر قدم جما رہی ہے اور وہ وقت کے ساتھ مضبوط ہورہی ہے۔ترکی ،امریکا اور بعض عرب ممالک شامی فوج کے خلاف برسرپیکار اعتدال پسند باغی گروپوں کی حمایت کررہے ہیں۔ان کے برعکس روس اور ایران اپنے اتحادی بشارالاسد کی حکومت کو بچانے کے لیے سرگرم ہیں۔