.

موصل ڈیم کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے: امریکی رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شہر موصل میں قائم ملک کے سب سے بڑے ڈیم کے حوالے سے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈیم کی حالت بدتر ہوچکی ہے اور وہ کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ پانی کے بہائو کی زد میں آجائیں گے۔

امریکی فوج کے انجینئرز کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈیم کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اسے غیر ہموار میدان پر ناقص طریقے سے تعمیر کیا تھا۔ اس کے نیچے موجود زمین پانی کی وجہ سے ختم ہوتی جارہی ہے۔ 1985ء میں ڈیم کے افتتاح سے اب تک ڈیم کی دیکھ بھال کرنے والی ٹیمیں مسلسل کنکریٹ کو بنیادوں میں بھرتی رہی ہیں۔

اس ڈیم کی مصیبت کا حل تلاش کرنے کی کوششوں کی راہ میں سیاسی حکمت اور دو ارب ڈالر کی بڑی رقم کی ضرورت رکاوٹ بن کر حائل ہے۔ عراقی حکومت اس صورتحال میں عارضی طور پر اقدامات اٹھانے پر مجبور ہے۔ اس موقع پر عراق کی وزارت برائے واٹر ریسورسز کا کہنا ہے کہ ڈیم کو فوری طور پر تباہی کا خطرہ نہیں ہے۔

ڈیم کی بنیادوں میں کنکریٹ ڈالنے کے اس عمل کے بغیر 113 میٹر بلند یہ ڈیم زمین میں دھنس جائے گا جس کے نتیجے میں 30 میل لمبی جھیل دریائے دجلہ کی وادی میں داخل ہوجائے گی۔ اسی دریا کے ساتھ ہی عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل واقعہ ہے جو کہ ڈیم سے 40 میل کی دوری پر ہے۔ اندازے کے مطابق اس ڈیم کی تباہی کی صورت میں سیلاب بغداد تک پہنچ جائے گا جو کہہ تقریبا 340 میل دور واقع ہے۔

امریکی عہدیداران کا کہنا ہے کہ ڈیم کی تباہی کی صورت میں پانچ لاکھ سے زائد افراد مر جائیں گے۔ اس کے علاوہ لاکھوں لوگ بے گھر ہوجائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق "موصل ڈیم ایک سال پہلے کی رپورٹ کے مقابلے میں زیادہ گھمبیر صورتحال میں ہے اور تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔"

رپورٹ میں ڈیم کی تباہی کا وقت نہیں بتایا گیا مگر امریکی عہدیداران اور انجینئرز کا کہنا ہے کہ یہ کسی بھی موقع پر گر سکتا ہے۔ ڈیم کی بنیادوں میں کنکریٹ بھرنے سے اس عمل کی رفتار کم ہوجائے گی مگر کسی بھی رکاوٹ کے سلسلے میں بہت بڑی مصیبت آسکتی ہے۔