.

یمن کا % 80 باغیوں سے چھڑالیا، صنعا جلد آزاد ہوگا: بحاح

’دہشت گردوں اور باغیوں کے درمیان خفیہ گٹھ جوڑ موجود ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#یمن کے نائب صدر اور وزیراعظم #خالد_بحاح نے کہا ہے کہ حکومتی فوج اور مزاحمتی ملیشیا نے اتحادی ممالک کی معاونت کے ذریعے ملک کا 80 فی صد علاقہ باغیوں سے واپس لے لیا ہے اور اب ہماری فورسز دارالحکومت #صنعاء پر دستک دے رہی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خالد بحاح نے ’’العربیہ‘‘ نیوز چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر #ترکی_الدخیل کی زیر نگرانی ’’ترقی کے لیے حکومتوں کو درپیش مشکلات‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے سنہ 2014ء میں وزارت عظمیٰ کا منصب بادل نا خواستہ قبول کیا تاکہ ملک میں استحکام اور دیرپا امن کی مساعی کو آگے بڑھایا جا سکے۔ یمن کے نائب صدر نے سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں باغیوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ اتحادیوں کی کوششوں سے یمن کو اس کی فطری حالت میں واپس لانے میں مدد ملے گی۔

خالد بحاح نے کہا کہ یمن کے جن علاقوں میں #حوثی اور #علی_صالح کے وفاداروں کا قبضہ ہے وہاں دہشت گردی کی کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں اور یمنی باغیوں کے درمیان کوئی خفیہ گٹھ جوڑ موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یمن میں امن وامان کے قیام اور آئینی حکومت کی بحالی کے لیے بات چیت اور فوجی کارروائی ایک ساتھ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومتی فورسز ملک کے 80 فی صد علاقوں کو باغیوں سےواپس لینے میں کامیاب ہوچکی ہیں۔ صرف بیس فی صد علاقہ باغیوں کے قبضے میں ہے۔ حکومتی فوج کی اگلی منزل صنعاء ہے اور ہم صنعاء کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔

خالد بحاح نے تسلیم کیا کہ یمن میں صورت حال نہایت پیچیدہ ہے مگر ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم بحران سے نکلنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی پر چل رہے ہیں۔ یمن کی تعمیر نو اور اس کی اصل فطری حالت میں واپسی ہماری اولین ترجیح ہے۔

یمنی نائب صدر نے خلیجی ممالک کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی بھائیوں نے یمنی قوم کی مشکل وقت میں بہت مدد کی ہے۔ حقیقی معنوں میں یمن مین تبدیلی سنہ 2011ء میں اقوام متحدہ اور خلیج تعاون کونسل کے مطالبے کے بعد شروع ہوئی ہے۔