.

مراکش بیرونی مداخلت کے مقابل سعودی عرب کے شانہ بشانہ

سعودی عرب امریکی اتحاد کے فیصلے کی صورت میں زمینی دستے شام بھیجنے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکشی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک خلیج کے خطے کے استحکام کو درپیش کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

مراکشی وزیر خارجہ صلاح الدین مزوار نے بدھ کے روز دارالحکومت الرباط میں اپنے سعودی ہم منصب عادل الجبیرکے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''ہم سعودی عرب کے ساتھ اس کے داخلی امور میں کسی قسم کی مداخلت سے نمٹنے کے لیے مکمل یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''مراکش خلیجی خطے کے امن کو درپیش خطرات کے مقابلے کے لیے بھی سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔سعودی عرب کی قیادت میں گذشتہ سال یمن میں شروع کیے گئے فوجی آپریشن نے ثابت کیا ہے کہ یہ اس ملک میں ایک جائز اور قانونی حکومت کے دفاع کے لیے کیا گیا ہے''۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ مراکش فرقہ واریت اور ریاستوں کے داخلی امور میں بیرونی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ''صدر بشارالاسد کی شام کے مستقبل میں کوئی جگہ نہیں ہے''۔انھوں نے واضح کیا کہ ''شام میں اگر سیاسی عمل ناکام رہتا ہے تو پھراس صورت میں کوئی پلان بی نہیں ہے''۔

تاہم انھوں نے شامی بحران کے حل کے لیے مزید تفصیل بیان نہیں کی ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا کی قیادت میں اتحاد شام میں زمینی فوج بھیجنے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر سعودی عرب بھی اپنے دستے بھیجنے کو تیار ہے۔