.

اماراتی ولی عہد کی تاریخی دورے پر نئی دہلی آمد

دوطرفہ اقتصادی اور عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے ولی عہد اور مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر اِن چیف الشیخ محمد بن زاید آل نھیان بھارت کے پہلے دورے پر نئی دہلی پہنچے ہیں جہاں انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت کئی دوسرے سرکردہ رہ نماؤں سے ملاقات کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نئی دہلی پہنچنے پر اماراتی حکومتی وفد کا استقبال وزیراعظم مودی، ان کی حکومت میں شامل پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر درمندرا پردھان، متحدہ عرب امارات میں ہندوستانی سفیر ٹی بی سیتھا رام اور نئی دہلی میں متحدہ امارات کے ملٹری اتاشی نے کیا۔

اماراتی ولی عہد نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے باضابطہ ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات بالخصوص عسکری شعبے میں تعاون بڑھانے، اقتصادی اور تجارتی حجم میں اضافے سمیت باہمی دلچسپی کےدیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں دونوں ملکوں کے اہم حکومتی عہدیدار بھی موجود تھے۔

اس موقع پر ’یو اے ای‘ کے ولی عہد الشیخ محمد بن زید آل نھیان کے ہمراہ دبئی کے ولی عہد الشیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم، نائب وزیراعظم وزیرداخلہ الشیخ سیف بن زاید آل نھیان ، ابو ظہبی کے شاہی دیوان کے چیف الشیخ حامد بن زاید آل نھیان، وزیر اقتصادیات سلطان بن سعید المنصور، وزیر برائے آباد کاری و انسانی وسائل صقر بن غباش سعید غباش، وزیر مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر انور بن محمد قرقاش، توانائی کے وزیر سہیل بن محمد فرج فارس المزروعی، عالمی تعاون کی وزیرمملکت ریم بنت ابراہیم الھاشمی، وزیر مملکت ڈاکٹر سلطان بن احمد سلطان الجابر، نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علی بن حماد الشامسی، ایگزیکٹیوامور کے چیئرمین خلدون المبارک، بھارت میں اماراتی سفیر ڈاکٹر احمد عبدالرحمان البنا اور مسلح افواج کے سربراہ جنرل ابراہیم ناصر محمد العلوی سمیت کئی دوسرے عہدیدار موجود تھے۔

تزویراتی شراکت

تاریخی دورے پر نئی دہلی پہنچنے کے بعد اماراتی ولی عہد نے میڈٰیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش ہے متحدہ عرب امارات اور عوامی جمہوریہ بھارت کے درمیان تمام شعبوں میں تزویراتی شراکت کو فروغ دیتے ہوئے دو طرفہ تعاون کو مثالی انداز میں آگے بڑھایا جائے۔

الشیخ محمد بن زاید آل نھیان کا کہنا تھا کہ مجھے بھارت آمد اور یہاں کے لوگوں سے مل کربہت خوشی ہوئی۔ میں ایک ایسے دوست ملک کا مہمان ہوں جس کے ساتھ ہمارے دوستانہ تعلقات کی طویل تاریخ ہے۔ بھارت انسانی تہذیب وتمدن کا ایک دیرینہ مرکز ہونے کی بناء پر بھی ہمارے لیے قابل احترام ہے۔

تاریخی تعلقات

انہوں نے کہا کہ بھارت اور متحدہ عرب امارات کے باہمی تعلقات کی ایک پرانی تاریخ ہے جو کئی سو برسوں پر محیط ہے۔ متحدہ امارات کے مرحوم سربراہ الشیخ زاید بن سلطان آل نھیان نے سنہ 1975ء میں بھارت کے اپنے تاریخی دورے میں دونوں ملکوں کے مابین تاریخی اور دوستانہ تعلقات کی ایک نئی بنیاد رکھی۔ بھارت کی سابق وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی کے 1981ء میں دورہ امارات سے دونوں ملکوں میں تعلقات کو ایک نئہ جہت ملی اور دونوں ملک ترقی کی شاہراہ پر ایک ساتھ آگے بڑھنے لگے تھے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے علاقائی اور عالمی تغیرات میں بھارت کے ساتھ دوستانہ مراسم کو ہمیشہ فروغ دینے، مشترکہ چیلنجز سےمل کر نمٹنے اور ایک دوسرے کے لیے سرمایہ کاری کےبہترین مواقع پیدا کرنے کی پوری کوشش کی۔ بھارتی حکومتوں کی جانب سے بھی امارات کے ساتھ ہمیشہ جذبہ خیر سگالی کا مظاہرہ کیا گیا۔

مضبوط علاقائی قوت

بھارت کی علاقائی تاریخی وثقافتی اہمیت روشنی ڈالنے کے بعد الشیخ محمد زاید آل نھیان نے کہا کہ جمہوریہ ہند نہ صرف ایک مضبوط اقتصادی قوت ہے بلکہ نئی دہلی سیاسی اعتبار سے بھی خطے کا اہم ترین اور ایک موثر ملک ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھارت کے دفاعی تجربات سے ہمیشہ استفادہ کیا ہے۔ اس وقت بھی بھارتی ماہرین اماراتی سرزمین پرموجود ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کا واضح ثبوت ہیں۔

خطے کی مضبوط سیاسی اور معاشی قوت ہونے کے ناطے بھارت کا خطے کے اہم مسائل کے حل اور علاقائی امن واستحکام میں بھی کلیدی کردار رہا ہے۔ یو اے ای نے بھارت کو مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہرممکن مدد فراہم کی اور نئی دہلی کی جانب سے بھی بھرپور معاون جاری جاری ہے۔ دونوں ملک مشرق وسطیٰ کے تنازعات کے حل، علاقائی اور عالمی امن استحکام اور ممالک کے درمیان تعلقات کے توازن کے حوالے سے یکساں موقف رکھتے ہیں۔

اہم اہداف کی جانب پیش رفت

اپنی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد الشیخ محمد بن زاید آل نھیان نے کہا کہ میرے دورہ بھارت کا مقصد ہند ۔ امارات کے وسیع ترمشترکہ مقاصد واہداف کے حصول کو آگے بڑھانا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مجھے یقین ہے کہ نئی دہلی آمد سے دونوں ملکوں کےمشترکہ مفادات اور اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔ چونکہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط قوت سیاسی قوت ارادی کے بنیاد پرتعلقات پر تعلقات قائم ہیں۔ اس لیے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ دونوں ملک باہمی تعاون کے نہ صرف کئی نئے سمجھوتے کریں گے بلکہ ماضی میں ہونے والے دو طرفہ تعاون کے سمھجوتوں کو بھی آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔