.

شام میں جنگ بندی ابھی زیر بحث ہے: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کا کہنا ہے کہ شام میں ممکنہ جنگ بندی کے لئے مذاکرات جاری ہیں اور شامی بحران کے حل کے حوالے سے کوئی اتفاق رائے قائم نہی ہورہا ہے۔ یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے کہ جب اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ حمص میں پھنسے ہوئے ایک لاکھ 20 ہزار کو بھوک وقحط کا سامنا ہے۔

روسی صدارتی دفتر کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوو نے صحافی کی جانب سے اس سوال پر کہ کیا روس نے جنگ بندی کے آغاز کے لئے یکم مارچ کی تاریخ کی تجویز دی ہے، کہا "یہ عمل بہت نازک ہے، مذاکرات ابھی جاری ہیں، کوئی بھی ابھی شامی بحران کے حل میں اتفاق رائے کے حوالے سے حتمی بات نہیں کہہ سکتا ہے۔"

روس کی جانب سے اس بیان سے قبل بدھ کے روز ایک مغربی عہدیدار کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ روس نے شام میں جنگ بندی کے لئے یکم مارچ کی تاریخ تجویز کی تھی مگر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس کی اس تجویز پر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

اس سے قبل ایک بیان میں روس کے نائب وزیر خارجہ گینادی گاتیلوف کا کہنا تھا کہ" ہم شام میں جنگ بندی کے طریقہ کار پر بات چیت کرنے کو تیار ہیں اور میونخ میں اسی موضوع کے حوالے سے بات کی جائے گی۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ شامی فریقین کے درمیان امن مذاکرات 25 فروری سے قبل شروع ہوسکتے ہیں۔

روس کی جانب سے 'محفوظ زون' کی مخالفت

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے شام میں نو فلائی زون قائم کرنے کے مطالبے پر ایک سینئر روسی سفارتکار کا کہنا تھا کہ ماسکو ترکی شام سرحد پر کسی محفوظ زون کے قیام کی مخالفت کرتا ہے۔

روس کے نائب وزیر خارجہ اولیگ سائرومولوتوف کا کہنا تھا کہ ماسکو امریکی اتحاد کی جانب سے شامی حکومت یا اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی اجازت کے بغیر شام میں فوج کی تعیناتی کی مخالفت کرتا ہے۔ روسی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو روس اسے براہ راست فوجی مداخلت سمجھے گا۔

روس کی مدد اور فضائی کارروائیوں کے ساتھ شامی افواج کی جانب سے پیش قدمی کے نتیجے میں حلب کے دسیوں ہزاروں باشندے ترکی کی جانب جانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی حمص میں قحط کی وارننگ

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق شامی حکومت اور اس کی اتحادی افواج کی پیش قدمی کے باعث حمص کے ایک لاکھ 20 ہزار افراد کا باہری دنیا سے رابطہ کٹ گیا ہے جس کے نتیجے میں قحط کی صورتحال پیدا ہورہی ہے اور طبی امداد نہ ملنے کی صورت میں مریض مررہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کھانے پینے اور روز مرہ کی اشیاء پانے کی تمام راہیں بند ہونے کے بعد حالات تیزی سے بدتر ہورہے ہیں۔ کھانے پینے کی جو اشیاء ابھی تک موجود ہیں ان کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق طبی اشیاء کی بھی شدید کمی ہے اور کینسر کے 34 میں سے 14 مریض ادویا نہ ملنے کی صورت میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔