.

پولینڈ نیٹو کی مدد کے بدل میں داعش مخالف مہم میں شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پولینڈ نے روسی خطرے سے نمٹنے کے لیے نیٹو کی حمایت کے بدل میں عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

پولش وزیردفاع انتونی میکائریوکز نے برسلز میں امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر سے ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا ہے لیکن انھوں نے واضح کیا ہے کہ داعش مخالف مہم میں ان کے ملک کی حصے داری کا انحصار نیٹو کی جانب سے روس کی مشرقی یورپ میں سرگرمیوں کے ردعمل میں اقدامات پر ہوگا۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''پولینڈ نیٹو کے جنوبی کنارے میں جاری مہم میں شامل ہوگیا ہے۔یہ مہم ایک اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہے''۔

پولش وزیر دفاع نے کہا کہ ''جہاں تک اس فوجی تعاون کی تفصیل کا تعلق ہے تو ہم اس پر تبادلہ خیال جاری رکھیں گے۔ہم بالخصوص اس کو نیٹو کی صورت حال میں ایک وسیع تر تناظر میں دیکھتے ہیں''۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکا اور نیٹو دونوں ہی اپنے مشرقی کناروں میں واقع پولینڈ اور دوسرے ممالک کی حمایت جاری رکھیں گے اور وہاں مستقل طور پر موجود رہیں گے۔

واضح رہے کہ پولینڈ نے 2014ء میں روس کی جانب سے یوکرین کے جزیرہ نما علاقے کریمیا کو ضم کرنے اور مشرقی یوکرین میں مسلح علاحدگی پسندوں کی حمایت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔اب اس کو امید ہے کہ نیٹو کے جولائی میں سربراہ اجلاس میں سابق کمیونسٹ مشرقی یورپ میں مزید فوجی دستے بھیجنے سے اتفاق ہو جائے گا۔

نیٹو کے وزرائے دفاع نے بدھ کے روز روس کے مشرقی یورپ یا بالٹک ریاستوں میں کسی حملے کی صورت میں فضائی ،بحری اور زمینی فورسز کو متحرک کرنے کے لیے حکمت عملی وضع کی ہے اور اب روسی خطرے کا مقابلہ سرد جنگ کے فوجی اڈوں کو متحرک کیے بغیر مقابلہ کیا جائے گا۔نیٹو کے اس اجلاس میں وارسا سربراہ اجلاس کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔

امریکا اور اس کے اتحادی ممالک اگست اور ستمبر 2014ء سے عراق اور شام میں داعش کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔اب پولینڈ داعش کے خلاف جاسوسی کی سرگرمیوں اور تربیتی مہم میں حصہ لے سکتا ہے۔