.

ڈبلیو ایچ او کی تعز میں ادویہ اور طبی سامان کی ترسیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے اطلاع دی ہے کہ اس نے یمن کے جنوب مغربی شہر تعز میں بیس ٹن سے زیادہ وزنی زندگی بچانے والی ادویہ اور طبی سامان پہنچا دیا ہے۔حوثی شیعہ باغیوں نے گذشتہ کئی ماہ سے اس شہر کا مکمل محاصرہ کررکھا ہے اور شہر میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز موجود ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ان ادویہ اور طبی سامان کی اس شہر کی آبادی کو اشد ضرورت تھی۔شہر میں دو لاکھ سے زیادہ نفوس مکمل محاصرے میں ہیں اور ان کی انسانی امداد تک محدود رسائی ہے''۔

حوثی باغی گذشتہ آٹھ ہفتوں سے ضروریہ ادویہ اور طبی سامان بھی یمن کے اس تیسرے بڑے شہر میں پہنچنے سے روک رہے تھے۔اب بالآخر ڈبلیو ایچ او نے 31 جنوری کے بعد شہر کے الثورا ،الجمہوری ،الروضہ اور الطاعون اسپتالوں میں طبی سامان اور ادویہ پہنچا دی ہیں۔

یمن میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے احمد شادول کا کہنا ہے کہ تعز شہر کے اسپتالوں کا عملہ ادویہ اور طبی سامان کی ترسیل کے بارے میں تشویش میں مبتلا تھا۔اب وہ شہریوں کو علاج معالجے کی بنیادی سہولتیں مہیا کرسکے گا۔

قبل ازیں فرانس میں قائم ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم طبیبان ماورائے سرحد نے جنوری میں گذشتہ سال اگست کے بعد ضروری ادویہ اور طبی سامان پہنچایا تھا۔اس دوران سعودی عرب کے ایک خیراتی ادارے نے بھی طیاروں کے ذریعے تعز میں چالیس ٹن وزنی خوراک ،ادویہ اور طبی آلات گرائے تھے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گذشتہ منگل کو ایک رپورٹ میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں پر تعز میں ادویہ اور کھانے پینے کی ضروری اشیاء کی سپلائی کو گذشتہ تین ماہ سے روکے رکھنے کا الزام عاید کیا تھا۔

ایمنسٹی نے شہر کے بائیس مکینوں اور طبی عملے کے حوالے سے بتایا تھا کہ شہر کے بیشتر اسپتال ادویہ اور طبی سازوسامان مہیا نہ ہونے کی وجہ سے بند ہوچکے ہیں اور باقی بھی بند ہونے کے قریب ہیں۔

حوثی باغیوں نے گذشتہ کئی ماہ سے تعز کا محاصرہ کررکھا ہے اور شہر کی جانب آنے والے اور باہر جانے والے تمام راستوں پر ان کا کنٹرول ہے۔شہر کے مغرب میں واقع الضحی کراسنگ ہی صرف کھلی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تعز سے تعلق رکھنے والے پانچ ڈاکٹروں سے گفتگو کے بعد بتایا کہ ''انھیں حوثی باغیوں سے جنوبی مزاحمت سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے درمیان زخمی ہونے والوں کے علاج معالجے کے لیے آکسیجن اور آلات جراحی کی اشد ضرورت ہے''۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ تعز میں قریباً 80 فی صد دکانیں بند ہوچکی ہیں اور اسمگل کر کے لائی جانے والی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں چار سے پانچ گنا بڑھ چکی ہیں۔ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ یمن میں بریڈ اور خوراک کی قیمتیں دُگنا ہوچکی ہیں۔