.

شام میں سعودی عرب کی زمینی مداخلت امریکی شرکت سے مشروط

شام میں داعش سے لڑنے کا سعودی منصوبہ "نیٹو" کے زیرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"العربيہ ڈاٹ نیٹ" کو ملنے والی معلومات کے مطابق سعودی عرب نے شام میں "داعش" کے خلاف برسرجنگ بین الاقوامی اتحاد میں شامل ممالک کو ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس منصوبے میں داعش کے خلاف لڑائی میں اسپیشل فورسز کی شرکت پر زور دیا گیا ہے جو معلومات جمع کرنے کے ساتھ ساتھ اعتدال پسند شامی اپوزیشن "فری آرمی" کے زیرانتظام تمام فورسز کو منظم بھی کرے۔

اجلاس میں سعودی وفد کی قیادت نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کررہے ہیں۔

موصولہ معلومات کے مطابق، خصوصی زمینی فوج کے شام بھیجے جانے کے ذریعے سعودی عرب کی شرکت انفرادی شکل میں نہیں ہوگی بلکہ یہ امریکا کی شرکت کے ساتھ مشروط ہے۔ اسی طرح یہ شرکت عراق کے بغیر صرف شام میں "داعش" تنظیم کے خلاف لڑائی تک محدود رہے گی۔

داعش تنظیم کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں شامل ممالک کے وزراء دفاع برسلز میں نیٹو کے اجلاس میں سعودی عرب کے پیش کردہ منصوبے پر غور کررہے ہیں۔ توقع ہے کہ بین الاقوامی اتحاد کے رکن ممالک سعودی تجاویز پر اپنی رائے پیش کریں گے۔

بین الاقوامی اتحاد کے ممالک کا پالیسی اور حکمت عملی کے سلسلے میں یہ اجلاس، فوجی سطح پر تجاویز کو زیربحث لانے سے قبل بطور تمہید منعقد کیا جارہا ہے۔

برسلز میں نیٹو کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والے اجلاس میں داعش تنظیم کے خلاف برسرجنگ ممالک اتحاد کو مزید متحرک کرنے اور امریکا کی شرکت کے ساتھ شام کے اندر زمینی افواج اتارنے کے کا میکانزم زیربحث لانے کی کوشش کررہے ہیں۔