.

القاعدہ اور حوثی ملیشیاؤں میں کس طرح کی مشابہت ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#یمن میں #القاعدہ تنظیم میں اندرونی انقلاب دیکھنے میں آرہا ہے اور وہ #حوثی باغیوں کی روش کے قریب تر ہوتی جارہی ہے۔ اس سے دونوں تنظیموں کے درمیان غیراعلانیہ تعاون اور یمنی حکومت کو درپیش چیلنجوں میں اضافے کا عندیہ ملتا ہے۔

یمن میں باغیوں اور شدت پسند جماعتوں کے درمیان مشابہت رسمی صورت سے بڑھ کر باہمی تعاون کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔

مبصرین کے مطابق یمن میں القاعدہ تنظیم نے حوثیوں اور #داعش تنظیم کی ڈگر اپناتے ہوئے گھروں کو اس کے مکینوں سمیت دھماکوں سے اڑانے اور یمنی فوجیوں کے گلے کاٹنے کی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ یہ چیز ان تمام فریقوں کے درمیان مشترکہ تعلق کا پتہ دیتی ہے۔

زنجبار میں القاعدہ کے زیرانتظام تنظیم "أنصار الشريعہ" کی جانب سے تقسیم کیے جانے والے پمفلٹوں میں سرکاری عمارتوں کے نزدیک رہنے والے شہریوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے گھروں سے کوچ کرجائیں۔ اس لیے کہ تنظیم القاعدہ کے کمانڈر جلال بلعیدی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے سرکاری عمارتوں کو دھماکے سے اڑانے کا اردہ رکھتی ہے۔

دوسری جانب القاعدہ تنظیم میں بھی حوثیوں اور معزول صدر #علی_صالح کی ملیشیاؤں کی طرح اندرونی انقلاب منظرعام پر آتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی وجہ بلعیدی کی جانشینی یعنی تنظیم کی امارت ہے جس پر اس کے بھائی توفیق اور ابو انس الصناعنی کے درمیان شدید تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ اسی سلسلے میں ابین میں جانبین کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔

تاہم اگر یہ اختلافات واقع بھی ہوئے تو بھی اس اہم ترین حقیقت کو کم نہیں کرسکتے جس کا انکشاف حضر موت میں بعض ذرائع کی جانب سے کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق جلال بلعیدی القاعدہ کا سرغنہ تھا تاہم وہ انصار الشریعہ تنظیم پر بھی اثرورسوخ رکھتا تھا کہ اس نے بعض مرتبہ تو داعش تنظیم کے لیے بھی کارروائیاں سرانجام دیں۔

یہ تمام شواہد یمنی حکومت کو درپیش بڑے چیلنجوں کے حجم کو اچھی طرح سے ثابت کرتے ہیں... جو ملک کی تمام سرزمین پر کنٹرول حاصل کرنے اور ساتھ ہی شدت پسند جماعتوں اور باغیوں کا مقابلہ کرنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ بالخصوص یہ جماعتیں جنوبی اور مشرقی صوبوں میں پھیلنے کے ساتھ ساتھ حکومت کے عارضی دارالحکومت عدن میں بھی قانون کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔