.

شام کے حوالے سے ریاض کے ساتھ تعاون پر تیار ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ محمد #جواد_ظریف کا کہنا ہے کہ ان کا ملک #شام کے حوالے سے #سعودی_عرب کے ساتھ تعاون اور خطے کے مسائل کے تصفیے کے لیے تیار ہے۔ مبصرین کے مطابق شام میں جلد مداخلت سے متعلق سعودی عرب کے اعلان کے بعد یہ ایران کے انداز اور خطاب میں واضح تبدیلی کا عندیہ ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی "ارنا" کے مطابق ظریف نے یہ بات جمعہ کی شام #میونخ کانفرنس برائے امن میں ہونے والے اپنے خطاب میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ "#ایران اور سعودی عرب دونوں کے شام میں مشترکہ مفادات ہیں، #تہران اور #ریاض کو اس سلسلے میں تعاون کرنا چاہیے اور ہم اس تعاون کے لیے تیار ہیں"۔

ظریف نے باور کرایا کہ "النصرہ فرنٹ، داعش اور بقیہ تمام دہشت گرد سعودی عرب اور دیگر ممالک میں ہمارے برادران کے لیے خطرہ ہیں... خطے میں ہمارا مسئلہ مشترکہ ہے اور وہ ہے خطرے کا سامنا،،، ممکن ہے کہ یہ خطرہ ترکی، سعودی عرب، پاکستان، افغانستان اور ایشیا کے وسطی ممالک میں ہمارے بھائیوں کے لیے مشکلات کا سبب بن جائے"۔

ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ترکی میں اپنے بھائیوں کے ساتھ تعاون کے ذریعے ہمارے لیے علاقائی مسائل اور مشکلات کا تصفیہ کرنا ممکن ہے"۔ ایرانی وزیر یہ بھول گئے کہ ان میں بہت سی مشکلات کھڑی کرنے میں ایران خود شریک ہے۔

ظریف نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ "شام کے بحران میں مرکزی بین الاقوامی کھلاڑیوں کی میونخ میں حالیہ بات چیت سے اس عرب ملک کے مسائل اور تکالیف کا بھی خاتمہ ہوجائے گا"۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں امید رکھتا ہوں کہ میونخ بات چیت سے شامی بحران کا منطقی حل مل جائے گا اور اس انسانی المیے کے خاتمے کے لیے تصفیے کی کوئی صورت نکل آئے گی"۔