.

شام میں سعودی فوج بھیجنے کا فیصلہ امریکی اتحاد کرے گا

تہران میں سوئس سفارت خانہ سعودی قونصلر امور انجام دے گا: عادل الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے واضح کیا ہے کہ شام میں سعودی اسپیشل فورسز بھیجنے کا فیصلہ امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد کرے گا۔

وہ دارالحکومت الریاض میں سوئس وزیر خارجہ کے ساتھ اتوار کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''ترکی کے انچرلیک ہوائی اڈے پر سعودی عرب کے لڑاکا طیارے بھیجنے کا فیصلہ اسی مہم کا حصہ ہے۔اب شام میں داعش کے خلاف کسی زمینی کارروائی کے لیے سعودی مملکت کے خصوصی دستوں کو بھیجنے کا فیصلہ امریکا کی قیادت میں اتحاد ہی کرے گا''۔

ان کے اس بیان سے قبل ایران کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف بریگیڈئیر جنرل مسعود جزائری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں سعودی عرب کو خبردار کیا ہے کہ وہ شام میں زمینی دستے نہ بھیجے۔

عادل الجبیر نے شام میں روس کی فوجی مداخلت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ شامی صدر بشارالاسد کے اقتدار کو برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں ایران کی جانب سے بشارالاسد کے اقتدار کو بچانے کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوچکی ہیں۔

''اب بشارالاسد نے روس سے مدد طلب کی ہے لیکن یہ مدد انھیں بچانے میں ناکام رہے گی''۔انھوں نے روس پر زوردیا ہے کہ ''وہ شام میں اعتدال پسند باغی گروپوں کے خلاف فضائی کارروائیاں بند کرے''۔

روس نے 30 ستمبر کو شامی صدر کی حمایت کے نام پر شام میں داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف فضائی مہم کا آغاز کیا تھا۔تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ روس کی فوجی مداخلت کے بعد سے بشارالاسد کو نئی زندگی مل گئی ہے مگر روس کی فضائی کارروائیوں پر مغربی ممالک متعدد مواقع پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ روسی لڑاکا طیارے داعش کے بجائے شامی فوج کے خلاف محاذ آراء اعتدال پسند باغی گروپوں کو اپنی بمباری میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

عادل الجبیر نے اس نیوزکانفرنس میں ایک مرتبہ پھر اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ ''ایک ایسے شخص کے لیے برسراقتدار رہنا ناممکن ہے جو تین لاکھ بے گناہ افراد کی ہلاکتوں کا ذمے دار ہے''۔

انھوں نے کہا:''بشارالاسد کی رخصتی اب وقت کا معاملہ رہ گیا ہے،جلد یا بدیر یہ رجیم ختم ہوجائے گا اور بشارالاسد کے بغیر ایک نئے شام کی تعمیر کا آغاز ہوگا''۔

سعودی وزیر خارجہ نے شامی رجیم پر زوردیا ہے کہ وہ شام کے تمام علاقوں تک انسانی امداد بہم پہنچانے کی اجازت دے،بے گناہ شہریوں پر فوجی حملے روک دے اور ملک میں سیاسی انتقال اقتدار کا عمل شروع کرے۔

واضح رہے کہ جرمن شہر میونخ میں شام رابطہ گروپ میں شامل سترہ ممالک نے گذشتہ جمعہ کو شام میں ایک ہفتے میں جنگی کارروائیاں روکنے اور محصور شہروں اور قصبوں میں انسانی امداد بہم پہنچانے سے اتفاق کیا تھا مگر وہ مکمل جنگ بندی یا روس کی فضائی بمباری رکوانے میں ناکام رہے تھے۔

تہران میں سعودی قونصلر امور

عادل الجبیر نے نیوز کانفرنس میں یہ بھی بتایا ہے کہ ایران کے دارالحکومت تہران میں سوئٹزرلینڈ کا سفارت خانہ اب سعودی عرب کے قونصلر امور کی انجام دہی کا ذمے دار ہوگا اور وہ حجاز مقدس آنے والے ایرانی زائرین کو سہولتیں مہیا کرے گا۔ سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انھیں ایران کے ساتھ تنازعے کے حل کے لیے کسی ملک کی مصالحت کی ضرورت نہیں ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے جنوری کے اوائل میں تہران میں اپنے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر مشتعل ایرانیوں کے حملے کے بعد اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا لیا تھا اور ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔

سعودی عرب میں ایک شیعہ عالم کا بغاوت کے جرم میں سرقلم کیے جانے کے بعد مشتعل ایرانی مظاہرین نے تہران میں سخت احتجاج کیا تھا اور سعودی سفارت خانے پر دھاوا بول کر اس کو آگ لگا دی تھی۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ان حملوں کی شدید مذمت کی تھی۔