.

اسرائیلی بائیکاٹ کو جرم قراردینے کے لیے برطانیہ میں قانون سازی

متنازع قانون سازی پرسیاسی اور انسانی حقوق گروپوں کی کڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی حکومت نے پارلیمنٹ کے ذریعے ایک نیا قانون منظور کرانے کی کوششیں شروع کی ہیں جس کے تحت حکومتی امداد کے تحت چلنے والے اداروں، تیار ہونے والی مصنوعات، سروسز اور اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کو جرم قرار دیا جائے گا۔

اخبار’’انڈی پینڈینٹ‘‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نئے قانون کی منظوری کے بعد اس گرفت میں مقامی کونسلیں، پبلک ادارے حتیٰ کہ جامعات بھی آسکتی ہیں۔

برطانوی حکومت کی جانب سے متنازع قانون کی منظوری کی کوششوں پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس نوعیت کے’آمرانہ‘ قوانین سے ملک میں جمہوری آزادیوں پر کاری ضرب لگے گی۔

برطانیہ کی لیبرپارٹی کے ترجمان نے حکومتی امداد سے چلنے والے اداروں اور اسرائیلی ریاست کے بائیکاٹ کو جرم قرار دینے کے لیے قانون سازی کو جمہوری آزادیوں کی نفی قراردیا ہے کیونکہ اس قانون کی منظوری کے بعد اس کی زد میں مقامی کونسلیں اور غیر سرکاری ادارے بھی آئیں گے جس کے نتیجے میں جمہوری آزادیوں پرضرب لگے گی، نیز اس نوعیت کے قوانین کی منظوری اخلاقی اعتبارسے بھی درست نہیں اور انہیں غیراخلاقی قرار دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں اسرائیل نوازی پرمبنی یہ قانون ایک ایسے وقت میں منظور کیا جا رہا ہے جب کئی اسرائیلی کمپنیوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری کے لیے سرمایہ کاری شروع کر رکھی ہے۔ ایسی تمام ملکی اور غیرملکی فرموں کو یورپ سمیت دنیا کے دوسرے ملکوں میں بائیکاٹ کی ایک موثر مہم کا سامنا ہے۔ بائیکاٹ تحریک کے نتیجے میں ان کمپنیوں کو کئی ملکوں میں اپنے دفاتربند کرنا پڑےہیں۔

برطانیہ میں بائیکاٹ کو جرم قرار دینے کے قانون کا مقصد چاہے جو بھی ہو مگر اس کے در پردہ اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کو روکنے کی سازش کی بو ضرور محسوس کی جا رہی ہے۔