.

بوکو حرام نے ہماری سرزمین پر تربیت حاصل کی: صومالی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے جرمنی میں سیکورٹی کانفرنس کے دوران بتایا کہ نائجیریا کی شدت پسند جماعت بوکو حرام کے جنگجوؤں نے مغربی افریقا لوٹنے سے قبل مشرقی افریقا کے ساحل پر صومالیہ میں بھی تربیت حاصل کی ہے۔

صدر محمود کا کہنا تھا کہ صومالیہ میں جو داخلی سیاسی اختلافات، بدعنوانی اور شدت پسند جماعت حرکت الشباب کے حملوں کا شکار ہے، حال ہی میں ایک فعال سیاسی نظام قائم کرنے کی جانب تھوڑی پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ " صومالیہ میں امن کے قیام کے بغیر بالخصوص پورا شمال مشرقی افریقا اور بالعموم سارا براعظم ہی غیرمستحکم رہے گا۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ بوکوحرام (کے جنگجوؤں) نے کچھ وقت صومالیہ میں بھی تربیت حاصل کی اور پھر نائجیریا واپس لوٹ گئی"۔

صومالیہ کے صدر نے باور کرایا کہ "دہشت گرد ایک دوسرے کے ساتھ متعلق ہیں وہ انتہائی منظم اور مربوط ہیں ... اس لیے دنیا کو بھی منظم ہونا چاہیے"۔

انہوں نے بیان میں اس بات کہ وضاحت نہیں کی کہ آیا وہ سمجھتے ہیں کہ حرکت الشباب اب بھی بوکوحرام کو تربیت دے رہی ہے جس نے داعش تنظیم کی وفاداری کا حلف اٹھا لیا ہے۔

القاعدہ تنظیم سے جوڑ رکھنے والی صومالی تنظیم حرکت الشباب صومالیہ کی حکومت گرا کر مذہب کی اپنی انتہا پسند پر مبنی تشریح مسلط کرنا چاہتی ہے۔ اس نے رواں ماہ ایک تخریبی کارروائی کے ذریعے دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول کی جس کے نتیجے میں ایک طیارے میں شگاف پڑ گیا تھا۔