.

ترکی کردوں کا شامی قصبے پر کنٹرول نہیں ہونے دے گا

شامی قصبے اعزاز پر روسی طیاروں کے میزائل حملے میں 14 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام کے سرحدی قصبے اعزاز پر شامی کرد جنگجوؤں کا کنٹرول نہیں رہنے دے گا جبکہ روس نے کردوں پر ترک فوج کی بمباری کی مذمت کردی ہے۔

ترک وزیراعظم نے یوکرین کے لیے سفر کے دوران طیارے پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ''ہم اعزاز کو کردوں کے ہاتھ نہیں جانے دیں گے۔وائی پی جی (پیپلز پروٹیکشن یونٹس ،شامی کرد ملیشیا)دریائے فرات کا مغربی کنارہ اور عفرین کا مشرق عبور نہیں کرسکیں گے''۔

دوسری جانب روس نے ترک فوج کی شام کے شمالی علاقے میں کردوں اور اسدی فوج کے ٹھکانوں پر مبینہ بمباری کو اشتعال انگیز اقدام قرار دیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ''ترک حکام کے پڑوسی ملک میں جارحانہ اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے''۔اس نے مزید کہا ہے کہ انقرہ اشتعال انگیزی پر عمل پیرا ہے جس سے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے ماوراء امن اور سلامتی کے لیے خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

روس ترکی کے خلاف تو اس طرح کے تندو تیز بیانات جاری کررہا ہے لیکن خود اس کے لڑاکا طیاروں نے سوموار کے روز شمالی قصبے اعزاز میں ایک اسپتال پر سات میزائل داغے ہیں جس کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شامی ڈاکٹروں کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ اس حملے میں تیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔یہ غیر سرکاری تنظیم ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع باب السلامہ میں ایک اسپتال چلاتی ہے۔

روسی دعوے کی تردید

ترک حکومت نے روس کے اس دعوے کی بھی تردید کی ہے کہ اس نے شمالی شام میں اپنے فوجی بھیجے ہیں۔شام کے شمالی شہر حلب اور اس کے نواحی علاقوں میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج باغی گروپوں کے خلاف روس کی فضائی مدد سے ایک بڑی کارروائی کررہی ہے۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولیہ کے مطابق وزیردفاع عصمت یلماز نے پارلیمان میں اتوار کی شب بیان دیتے ہوئے کہا کہ ''شمالی شام میں فوج بھیجنے کی بات درست ہے اور نہ ترک فوج شام میں مداخلت کا کوئی ارادہ رکھتی ہے''۔

ان سے سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا ترک فوجی شام کے صوبے حلب میں جاری لڑائی میں شریک ہوئے ہیں۔شامی حکومت نے ہفتے کے روز ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ باب السلامہ بارڈر کراسنگ کے ذریعے بارہ پک اپ ٹرک ترکی سے شامی علاقے میں داخل ہوئے تھے۔یہ پک اپ ٹرک مشین گنوں اور اسلحے سے لیس تھے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے وزارت خارجہ کے بیان کے حوالے سے بتایا تھا کہ ''ان گاڑیوں پر ایک سو کے لگ بھگ مسلح افراد سوار تھے۔ان میں سے بعض ترکی فوجی تھے اورباقی ترک ملیشیا کے ارکان تھے''۔

ترک فوج نے اختتام ہفتہ پر کرد ملیشیا کے حملے کے ردعمل میں گولہ باری بھی کی تھی۔دمشق حکومت نے اس گولہ باری کی مذمت کی تھی اور اقوام متحدہ پر زور دیا تھا کہ اس واقعے پر ترکی کے خلاف کارروائی کرے۔