.

روس کے حلب کے نواح میں فضائی حملے جاری رہیں گے

روسی فوج غیر معینہ عرصے کے لیے شام میں موجود نہیں رہے گی: وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے شام میں جنگ بندی کے لیے کسی سمجھوتے کے باوجود شمالی شہر حلب اور اس کے نواح میں فضائی حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

روس کی خبررساں ایجنسی انٹرفیکس نے وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار کے حوالے سے یہ فضائی حملے جاری رکھنے کی اطلاع دی ہے۔شامی حزب اختلاف کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے اتوار کو ایک بیان میں روس کو شام میں بمباری جاری رکھنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔انھوں نے کہا تھا کہ جنگ زدہ ملک میں موجود لوگ الفاظ کے بجائے عملی اقدام کے منتظر ہیں۔

درایں اثناء روسی وزیراعظم دمتری میدویف نے ٹائم میگزین کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کا ملک غیر معینہ مدت کے لیے شام میں فوج موجود رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔

ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا روس اپنے اتحادی بشارالاسد کو ملک پر مکمل کنٹرول بحال کرنے میں مدد دے گا۔اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ''ہم شام میں کبھی ختم نہ ہونے والی موجودگی نہیں چاہتے ہیں،ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ہم وہاں بہت محدود اور ٹھوس مقاصد کے لیے موجود ہیں''۔

گذشتہ ہفتے میدویدیف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ تمام قوتوں کو شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی میز پر مل بیٹھنا چاہیے قبل اس کے اس کی وجہ سے ایک نئی عالمی جنگ شروع ہوجائے۔

انھوں نے جرمن اخبار ہینڈلزبلیٹ سے انٹرویو میں کہا کہ ''امریکیوں اور ہمارے عرب شراکت داروں کو سوچنا چاہیے کہ کیا وہ ایک مستقل جنگ چاہتے ہیں۔اس طرح کی جنگ فوری طور پر جیتنا ناممکن ہوگا۔خاص طور پر عرب دنیا میں جہاں ہر شخص دوسرے شخص سے لڑرہا ہے''۔انھوں نے کہا کہ روس اور امریکا کو تنازعے کے تمام فریقوں پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔

واضح رہے کہ روس کے لڑاکا طیارے اس وقت حلب اور اس کے نواحی علاقوں میں شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف لڑنے والے باغی گروپوں پر بمباری کررہے ہیں۔اس فضائی مدد سے ہی شامی فوج برسرزمین پیش قدمی کررہی ہے اور اس نے حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔شام کے شمالی علاقوں میں امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیارے بھی داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔