.

سعودی سرحد پر دراندازی، 3 ایرانیوں سمیت 10 حوثی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی بری افواج نے پیر کے روز حوثی ملیشیاؤں اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں کی 7 گاڑیوں کو تباہ کردیا۔ یہ افراد جن میں 3 ایرانی بھی شامل تھے، مملکت کے جنوبی علاقے الربوعہ پر دھاوے کی کوشش کررہے تھے۔

اس عرصے میں سعودی فوج نے سرحدی پٹی پر الحرث ضلع کے مقابل باغیوں کے ٹھکانوں پر مارٹر گولے داغنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ سعودی توپ خانے نے یمنی پہاڑی سلسلے ابونار پر موجود ٹھکانوں پر بھی گولہ باری کی۔

روزنامہ الحیات نے سعودی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی افواج کی جانب سے مملکت کے ضلع الخوبہ کی سمت مسلح حوثیوں کی دراندازی کی کوششوں کو بھی پسپا کردیا۔ اس دوران ایک سرحدی چوکی پر مارٹر گولے داغنے والوں میں سے 10 حوثیوں کو ہلاک کردیا گیا جب کہ مارٹر حملے میں سعودی کوسٹ گارڈز کا ایک اہل کار شہید ہوگیا۔

دوسری جانب عرب اتحادی افواج کے طیاروں نے گزشتہ روز صنعاء اور اس کے نواحی علاقوں کے علاوہ اِب، مارب اور الجوف کے صوبوں میں بھی حوثی اور معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ جنوبی صوبے لحج میں القاعدہ کے مسلح عناصر کے زیرکنٹرول کم از کم 3 ٹھکانوں پر بھی بمباری کی گئی۔ اس دوران یمن کی سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں نے تعز صوبے میں مختلف محاذوں پر پیش قدمی اور لحج کے شمال میں "كرش" کے علاقے میں متعدد ٹھکانوں پر کنٹرول کا اعلان کیا ہے۔

اس دوران سیکورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ "نامعلوم مسلح افراد نے گزشتہ روز عدن کے شمال مغرب میں البریقہ گورنری میں مقامی کونسل کی عمارت کو آر پی جی گرینیڈز سے نشانہ بنایا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعض دیگر مسلح افراد نے عدن کے شمالی داخلی راستے پر الرباط کے علاقے میں ایک چیک پوائنٹ پر حملہ کیا اور شہر کے جنوب میں التواہی کے علاقے میں دھماکا خیز مواد استعمال کرکے دو افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا"۔

یمنی مزاحمت کاروں کے ذرائع نے بتایا ہے کہ انہوں نے تعز کے جنوب میں "حیفان" کے محاذ پر پیش قدمی کی ہے جب کہ الاعبوس کے علاقے میں حوثیوں اور صالح کی ملیشیاؤں کے ساتھ چھوٹے اور درمیانی ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران اتحادی طیاروں نے جبل الہتاری، "ذوباب" گورنری اور "الحوبان" اور "الجند" کے علاقوں میں ملیشیاؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

لحج کے شمال میں "كرش" کے محاذ پر ذرائع نے بتایا ہے کہ عوامی مزاحمت کاروں اور قومی فوج نے السفیلی، الحدب اور الجریبہ کے دیہاتوں کے علاوہ جبل الاشقب اور جبل القرن پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ اس دوران گھمسان کی لڑائی میں 30 سے زاید حوثیوں کی ہلاکت کے بعد بڑی تعداد میں اسلحے کو قبضے میں لے لیا گیا۔

حوثیوں کے بڑے گڑح شمالی صوبے صعدہ میں مقامی ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اتحادی طیاروں کے حملوں میں صوبے کے مغرب میں سرحدی پٹی کے ساتھ واقع علاقوں مران، حیدان، شدا، منبہ اور رازح میں باغیوں کے ٹھکانوں پر کاری ضربیں لگائیں۔

یمن کی قومی فوج اور عوامی مزاحمت کار جن کو عرب اتحادی افواج کی معاونت حاصل ہے، صنعاء کے شمالی اور مشرقی نواحی علاقوں میں پہنچنے کے بعد شہر میں موجود حوثی باغیوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ساتھ ہی تعز شہر کا محاصرہ ختم کرنے اور الجوف کے راستے صعدہ کی جانب جب کہ حجہ صوبے کے شمال مغرب کے راستے الحدیدہ کی بندرگاہ کی جانب پیش قدمی بھی کی جا رہی ہے۔