.

انقرہ میں بم دھماکا، 28 افراد جاں بحق،61 زخمی

دھماکوں میں فوجیوں کو لے جانے والی دو بسوں کو نشانہ بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں بدھ کی شام ایک زوردار بم دھماکے کے نتیجے میں اٹھائیس افراد جاں بحق اور 61 زخمی ہو گئے ہیں۔ ترک پولیس کے مطابق بم ایک کار میں نصب تھا اور اس کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے۔

انقرہ کے گورنر محمد قلیچ لر نے کہا ہے کہ بم دھماکا شام کے مصروف اوقات میں فوجی ہیڈ کوارٹرز اور پارلیمان کی عمارت کے نزدیک ہوا ہے۔ اس بم حملے میں بظاہر بسوں کے ایک قافلے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان بسوں میں فوجی سوار تھے۔

گورنر نے ابتدائی اطلاع کے حوالے سے 28 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی میڈیا کی اطلاع کے مطابق بم دھماکے سے کئی کاروں کو آگ لگ گئی اور دھویں کے سیاہ بادل بلند ہورہے تھے۔

ترک پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے دہشت گردی کے اس واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ اس بم دھماکے میں کس گروپ کا ہاتھ کارفرما ہے۔یہ بم حملہ کرد باغیوں کی کارروائی ہے یا داعش نے یہ کیا ہے۔ حال ہی میں بائیں بازو کے ایک انتہا پسند گروپ نے بھی ملک میں بم حملے کیے ہیں۔

انقرہ میں 10 اکتوبر2015ء کو کرد نواز جماعتوں کی امن ریلی کے دوران دو خودکش بم دھماکوں میں ایک سو افراد ہلاک اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اس واقعے کے بعد کہا تھا کہ داعش ،کرد جنگجوؤں اور شام کی خفیہ پولیس ''مخابرات'' کا انقرہ میں ان دو خودکش بم دھماکوں میں ہاتھ کارفرما تھا۔

ترک حکام نے ان دھماکوں میں ملوث ایک خودکش بمبار کو شناخت کر لیا تھا اور اس کا نام یونس امیر الگوز بتایا گیا تھا۔الگوز کے بارے میں شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ جنوب مشرقی قصبے ادیمان میں داعش کے ایک مقامی سیل کا رکن تھا۔ترک صدر نے قبل ازیں بھی عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش پر ان بم دھماکوں میں ملوّث ہونے کا شُبہ ظاہر کیا تھا۔

صدر طیب ایردوآن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی کو ایسے انٹیلی جنس اشارے ملے ہیں جن سے یہ پتا چلتا ہے کہ انقرہ میں بم حملے کا تعلق شام سے ہے جہاں داعش کے انتہاپسندوں نے ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع ایک بڑے علاقے پر قبضہ کررکھا ہے۔

اس سے قبل شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے سوروچ میں 20 جولائی کو خودکش بم دھماکے میں چونتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے اور دہشت گردی کے اس واقعے کے بعد ترک فوج نے شمالی عراق میں کرد باغیوں اور شمالی شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کردیا تھا۔ ترک حکومت نے داعش پر اس بم حملے میں بھی ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔