.

بشارالاسد پورے شام پر کنٹرول کا خواب نہ دیکھیں : روس

شامی صدر نے امن کے لیے روس کی پیروی نہ کی تو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں متعین روسی سفیر ویٹالے چرکین نے شامی صدر بشارالاسد کو خبردار کیا ہے کہ وہ پورے ملک پر کنٹرول کا خواب نہ دیکھیں اور اگر انھوں نے امن عمل سے متعلق روس کے منصوبے کی پاسداری نہ کی تو انھیں سنگین نتائج بھگتنا پڑسکتے ہیں۔

ویٹالے چرکین نے روسی اخبار کمر سانت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''روس نے اس بحران میں سیاسی ،سفارتی اور اب فوجی شعبے میں بڑی سنجیدگی سے سرمایہ کاری کی ہے۔اس لیے ہم یہ چاہیں گے کہ بشارالاسد بھی اس کا جواب دیں''۔

انھوں نے واضح کیا کہ شامی صدر کا موقف روس کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کے مطابق نہیں ہے۔روس اور شام رابطہ گروپ میں شامل دوسری بڑی طاقتوں نے گذشتہ ہفتے جرمن شہر میونخ میں جنگ زدہ ملک میں جنگی کارروائیاں روکنے سے اتفاق کیا تھا۔تاہم روس نے شام میں جنگ بندی کے لیے کسی سمجھوتے کے باوجود شمالی شہر حلب اور اس کے نواح میں فضائی حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

روس کے لڑاکا طیارے حلب اور اس کے نواحی علاقوں میں شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف لڑنے والے باغی گروپوں پر بمباری کررہے ہیں۔اس فضائی مدد سے ہی شامی فوج برسرزمین پیش قدمی کررہی ہے اور اس نے حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔شام کے شمالی علاقوں میں امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیارے بھی داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔

شامی صدر بشارالاسد نے ان فتوحات کے پیش نظر ہی گذشتہ ہفتے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ انٹرویو میں پورے ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔انھوں نے یہ گفتگو شام میں جنگی کارروائیاں روکنے سے متعلق میونخ میں بڑی طاقتوں کے درمیان اتفاق رائے کے بعد کی تھی۔

روسی سفیر نے اپنے انٹرویو میں یہ بات زوردے کر کہی ہے اگر شام بحران کے حل کے لیے روسی قیادت کی پیروی کرے تو وہ بڑے آبرومندانہ انداز میں اس دلدل سے نکل سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ''اگر وہ اس سے انحراف کرتے ہیں تو میری ذاتی رائے میں ایک بہت ہی مشکل صورت حال پیدا ہوجائے گی۔اگر وہ اس بنیاد پر لڑائی جاری رکھتے ہیں کہ جنگ بندی کی ضرورت ہی نہیں ہے اور وہ فتح تک لڑتے رہیں گے تو پھر یہ تنازعہ ایک طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے اور اس کا تصور ہی خوف ناک ہے''۔

تاہم چرکین کا کہنا تھا کہ بشارالاسد نے وہ بیان سیاسی اثرات کے لیے جاری کیا تھا۔اس طرح کے بیانات کو کوئی بہت زیادہ اہمیت دینا اور انھیں ڈرامائی انداز میں بیان کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر نہیں جانا چاہیے کہ وہ کیا بیانات جاری کرتے ہیں بلکہ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ عملی طور پر کیا کرتے ہیں۔انھوں نے میونخ سمجھوتے کے حوالے سے کہا کہ ''دمشق کو سمجھنا چاہیے کہ شام میں گذشتہ پانچ سال سے جاری تباہی کے بعد پہلی مرتبہ یہ منفرد موقع ہاتھ آیا ہے''۔