.

پوتین اور سعودی فرمانروا شامی بحران کے حل کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے شام کی صورت حال پر ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کیا ہے اور دونوں لیڈروں نے اس بحران کے حل میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

کریملن نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ دونوں لیڈروں کے درمیان جمعے کو ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے اور صدر ولادی میر پوتین نے خادم الحرمین الشریفین کو روس کے دورے کی دعوت دی ہے جو انھوں نے قبول کر لی ہے۔

سعودی عرب اور روس شامی بحران کے معاملے میں متحارب کیمپوں میں ہیں۔روس شامی صدر بشارالاسد کی دامے،درمے ،سخنے کے بعد گذشتہ سال ستمبر سے فوجی امداد کررہا ہے جبکہ سعودی عرب صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف برسرپیکار حزب اختلاف اور اس کے تحت اعتدال پسند باغی گروپوں کی حمایت کررہا ہے۔

سعودی عرب امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ہے اور اس کے لڑاکا طیارے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں جبکہ روس اپنے طور پر صدر بشارالاسد کی حمایت میں اسد مخالف تمام باغی گروپوں پر فضائی بمباری کررہا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ روسی لڑاکا طیارے داعش اور القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں لیکن برسرزمین ان کی بمباری کا زیادہ تر نشانہ اعتدال پسند باغی گروپ یا پھر عام شہری ہی بن رہے ہیں جس کی وجہ سے شام میں حالیہ مہینوں کے دوران ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور بے گھر ہونے والے شامیوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔